تہران، 16 مئی (یواین آئی) پاسداران انقلاب کی بحریہ نے ایران کی جانب سے وضع کردہ نئے قانونی پروٹوکول کے تحت آبنائے ہرمز سے مزید بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم بحری راستے کو عملی طور پر بند رکھا گیا تھا۔جنوبی ایران کے شہر بندر عباس سے سرکاری ٹی وی کے رپورٹر نے بتایا کہ پاسداران انقلاب کی بحری افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد مزید جہاز اس سٹریٹجک گزرگاہ سے عبور کر سکتے ہیں۔رپورٹر کے مطابق یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مزید ممالک نے ایران اور پاسداران انقلاب کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قانونی پروٹوکول کو تسلیم کر لیا ہے۔یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب پاسداران انقلاب نے تصدیق کی تھی کہ بدھ کی شام سے چینی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ جمعرات کو 30 سے زائد بحری جہاز اس راستے سے گزرے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا تمام جہاز چین سے تعلق رکھتے تھے یا نہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، جبکہ یہ کھادوں اور عالمی بحری تجارت کیلئے بھی نہایت اہم راستہ ہے۔رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد کے مرحلے میں بھی تہران آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے کنٹرول پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ امریکا اور متعدد عالمی ممالک اس بحری راستے میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ہرمز میں نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھی گئی ہے۔ایک ایرانی اہلکار نے گزشتہ اپریل میں بتایا تھا کہ تہران نے اس اسٹریٹجک گزرگاہ میں ٹرانزٹ فیس وصول کرنا بھی شروع کر دی ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی
مقالات ذات صلة










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4595210