ٹرمپ کی موجودگی میں پریس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی
واشنگٹن، 27 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے بعد پہلی بار امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیا، جس میں انھوں نے کہا کہ جب حملہ ہوا تو میں گھبرایا نہیں تھا، میں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں۔سی بی ایس کے پروگرام سکسٹی منٹس میں دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’فائرنگ کے بعد میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا ہے، اہلکاروں نے فوری طور پر مجھے حفاظتی حصار میں لیا، سیکیورٹی اہلکار بار بار کہہ رہے تھے نیچے ہو جائیں، اہلکاروں کے کہنے پر میں اور خاتون اوّل زمین پر بیٹھ گئے۔‘‘ انھوں نے بتایا ’’میں پہلے کرسی سے اٹھا اور کھڑے ہو کر ہی جانے لگ گیا تھا، اہلکاروں نے مجھے جھک کر وہاں سے جانے کا کہا، پہلے ہمیں لگا ٹرے گرنے کی آواز ہے، خاتون اوّل پریشان ہو گئی تھیں۔‘‘امریکی صدر نے کہا ’’اہلکار جب پہنچے تو میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے، اہلکاروں کے آنے کے بعد سمجھ گئے کہ کچھ غلط ہوا ہے، میں اہلکاروں کو کہہ رہا تھا کہ رکو مجھے دیکھنے دو کیا ہوا ہے، مجھے نہیں پتا کہ حملہ آور کا ٹارگٹ میں ہی تھا۔‘‘ انھوں نے کہا ’’کیرولین لیوٹ کو بھی حملے سے متعلق کچھ پتا نہیں تھا، اس صورت حال میں خاتون اوّل بہادر دکھائی دیں، وہ مضبوط ہیں، مجھ پر پہلے بھی حملے ہوئے، خاتون اوّل کے لیے یہ صورت حال نئی تھی، میں وہیں رک گیا تھا اور میری کوشش تھی تقریب دوبارہ شروع ہو۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’حملہ آور بہت تیزی سے دروازے کی طرف بھاگتا ہوا آیا، وہ کچھ ہی دور بھاگ پایا اور پکڑا گیا، اہلکاروں نے پیشہ ورانہ طریقے سے حملہ آور کو گرفتار کیا، میں جرائم کے خلاف سخت مؤقف رکھتا ہوں، میں نے امریکہ کی سرحدوں کو بہت محفوظ بنا دیا ہے، 9 ماہ میں ایک بھی شخص غیر قانونی طریقے سے امریکا میں داخل نہیں ہوا۔‘‘ انھوں نے کہا میں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں، 500 سال پیچھے بھی چلی جائیں تو ایسے لوگ موجود رہے ہیں، پہلے بھی رہنماؤں پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے، ڈیموکریٹس کی نفرت اور اشتعال انگیز تقریریں ملک کے لیے خطرہ ہیں، ایسے صدور پر ہی حملے ہوتے ہیں جو ملک کے لیے کچھ کرتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا میں نے اس ملک کو بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، ایران کے خلاف کارروائی کی جو پہلے کوئی صدر نہیں کر سکا، سابقہ صدور نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کر کے غلطی کی، 5 یا 10 سال پہلے ایران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی جس کے نہ ہونے سے وہ مضبوط بن گیا، جب اپنے ملک کے لیے کوئی کام کریں تو پھر اس کے نتائج بھی آتے ہیں، ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکتے ہیں تو وہ ناراض ہو جاتا ہے۔ٹرمپ نے کنگ چارلس کے دورے سے متعلق کہا کہ برطانیہ کے بادشاہ آ رہے ہیں، وہ ہمارے ملک میں محفوظ رہیں گے، وہ محفوظ ترین مقام وائٹ ہاؤس آ رہے ہیں، مجھے یا میری کابینہ کو کسی حملے کا الرٹ نہیں ہے۔ دریں اثنا، امریکی صدر ٹرمپ نے پروگرام میں اپنی اہلیہ کو سالگرہ کی مبارک بھی دی اور بتایا کہ ان کی اہلیہ کی سالگرہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حملہ آور کا ممکنہ ہدف امریکی صدر تھے۔ انہوں نے کہا ایسا لگتا ہے ملزم نے اکیلے کارروائی کی اور وہ ہوٹل میں ہی مقیم تھا اور حکومتی عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، پیر کو اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔امریکی میٖڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سال کے کول ٹوماس ایلن کے طور پر ہوئی، مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔واشنگٹن کے میئر کا کہنا ہے کہ واحد مسلح شخص لابی میں سیکرٹ سروس کی طرف بڑھا تو ایک اہلکار نے اسے روکا۔ واشنگٹن پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ہوٹل کی ویڈیو کا جائزہ لیا جائے گا کہ حملہ آور ہتھیار کے ساتھ اندر کیسے داخل ہوا، مبینہ حملہ آور کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چاقو تھے۔ دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے کیلیفورنیا کےعلاقے ٹورینس میں گرفتارملزم کے گھر اور اطراف میں تحقیقات شروع کردی گئی۔











Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593187