National

گوتم گمبھیر کا سیاسی میدان چھوڑنے کا اعلان، کرکٹ کی دنیا میں واپسی کا عزم

33views

نئی دہلی: مشرقی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ گوتم گمبھیر نے سیاسی میدان چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اب صرف کرکٹ پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی آج آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لیے اپنی پہلی فہرست جاری کر سکتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس بار کئی موجودہ ارکان پارلیمنٹ کا ٹکٹ کٹ سکتا ہے!

جیسے ایودھیا ہوا، ویسے ہی متھرا اور کاشی ہو جائے گا، بغیر کھدائی کے شواہد موجود! اوما بھارتی کا بیان

گوتم گمبھیر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’میں نے پارٹی کے صدر جے پی نڈا سے درخواست کی ہے کہ وہ مجھے میرے سیاسی فرائض سے فارغ کریں تاکہ میں اپنے آنے والے کرکٹ کے وعدوں پر توجہ مرکوز رکھ سکوں۔ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے مجھے لوگوں کی خدمت کا موقع دیا۔ جئے ہند۔‘‘

I have requested Hon’ble Party President @JPNadda ji to relieve me of my political duties so that I can focus on my upcoming cricket commitments. I sincerely thank Hon’ble PM @narendramodi ji and Hon’ble HM @AmitShah ji for giving me the opportunity to serve the people. Jai Hind!

— Gautam Gambhir (@GautamGambhir) March 2, 2024

گوتم گمبھیر فی الحال مشرقی دہلی سے بی جے پی کے لوک سبھا رکن ہیں۔ انہوں نے 2019 میں مشرقی دہلی لوک سبھا سیٹ سے جیت حاصل کی تھی۔ انہوں نے کانگریس کے ارویندر سنگھ لولی اور عام آدمی پارٹی کی آتشی کو شکست دی تھی۔

شادی شدہ مسلم خاتون اور اس کے ہندو لیو ان پارٹنر کو تحفظ دینے سے الہ آباد ہائی کورٹ کا انکار، 2000 روپے کا جرمانہ عائد

گوتم گمبھیر ٹی20 ورلڈ کپ 2007 اور ون ڈے ورلڈ کپ 2011 میں ہندوستانی ٹیم کے رکن رہ چکے ہیں۔ گوتم گمبھیر نے دونوں ٹورنامنٹ کے فائنل میں ہندوستانی ٹیم کے لیے میچ وننگ اننگز کھیلی۔ گمبھیر نے ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں 54 گیندوں میں 75 رنز بنائے تھے۔ ساتھ ہی ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں ان کے بلے سے 91 رنز نکلے۔ گمبھیر فی الحال آئی پی ایل میں کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے مینٹور ہیں۔ وہ لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے مینٹور بھی رہ چکے ہیں۔

Follow us on Google News