جدید بھارت نیوز سروس
گریڈیہہ،25؍اپریل: بگودربلاک کی اٹکا مشرقی پنچایت کے لکشمی باغی میں آتشزدگی کے واقعے میں کسانوں کی سال بھر کی محنت برباد ہو گئی۔ تقریباً 5 ایکڑ پر کھڑی گنے کی فصل آگ کی وجہ سے راکھ ہو گئی۔
آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی
اس واقعے میں کسانوں کو تقریباً 15 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تقریباً 20 کسانوں کے کھیتوں میں لگی گنے کی تیار فصل مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے کسانوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ کسانوں نے ڈیزاسٹر ریلیف (آفت راحت) کے تحت معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ گنے کے کھیتوں میں آگ کیسے لگی، اس بارے میں کسانوں کو کوئی علم نہیں ہے۔ آگ لگنے سے وہاں موجود گھاس پھوس اور پتے تیزی سے جلنے لگے، جس کی لپیٹ میں آکر تیار فصل تباہ ہو گئی۔
تباہ شدہ فصل کا جائزہ لیا گیا
کسانوں کا کہنا ہے کہ آگ سے جھلسنے کے بعد اب یہ گنا کسی کام کا نہیں رہا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پنچایت کمیٹی ممبر ٹیک نارائن ساؤ، پنچایت کمیٹی ممبر رنجیت مہتو، سابق پنچایت کمیٹی ممبر گوبند سنگھ اور سی پی آئی (ایم ایل) لیڈر و کسان بہاری لال مہتو کھیتوں میں پہنچے اور نقصان کا جائزہ لیا۔
معاوضے کا مطالبہ
مقامی لوگوں نے بگودرسی او (سرکل آفیسر) پروین کمار کو معاملے سے آگاہ کیا اور ڈیزاسٹر ریلیف کے تحت ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سابق ایم ایل اے ونود کمار سنگھ کو بھی صورتحال سے باخبر کیا گیا اور سرکاری سطح پر متاثرہ کسانوں کو معاوضہ دلوانے کے لیے پہل کرنے کی درخواست کی گئی۔ سابق ایم ایل اے نے کسانوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ واضح رہے کہ لکشمی باغی میں بڑے پیمانے پر گنے کی کاشت کی جاتی ہے، جہاں سے آس پاس کے اضلاع میں گنا سپلائی کیا جاتا ہے اور نیشنل ہائی وے کے کنارے گنے کا رس فروخت کیا جاتا ہے۔








Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4592995