جواب داخل نہ کرنے پر ریاستی حکومت کی سرزنش
گواہاٹی، 21 اپریل:۔ (ایجنسی) گواہاٹی ہائی کورٹ نے ریاستی وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو نفرت انگیز تقریر کرنے سے روکنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت کی۔ چیف جسٹس وجے بشنوئی کی بنچ نے اس بات پر سخت موقف اختیار کیا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود ریاستی حکومت اور پولیس نے اب تک اپنا جواب کیوں نہیں داخل کیا؟ عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس ملنے کے بعد بھی وزیر اعلیٰ نے 17 مارچ اور 27 مارچ کو متنازعہ تبصرے جاری رکھے۔
ابھیشیک منو سنگھوی نے الزام عائد کیا کہ ایک آئینی عہدہ پر بیٹھے شخص کے ذریعہ ’میاں‘ جیسے الفاظ کا استعمال اور خاص طبقہ کے تئیں توہین آمیز زبان کا استعمال سنگین تشویش کا موضوع ہے۔ انہوں نے عدالت سے ان تقاریر پر روک لگانے لیے عبوری حکم کا مطالبہ کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریاستی ایڈووکیٹ جنرل (اے جی) کی غیر موجودگی پر بھی سوال اٹھایا اور حکم دیا کہ اگلی تاریخ تک ہر حال میں جواب داخل کیا جائے۔
سماعت کے دوران جب ابھیشیک منو سنگھوی نے وزیر اعلیٰ کے بیانوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تو چیف جسٹس کمار نے کہا کہ حساس ایام (انتخاب) اب گزر چکے ہیں۔ اس پر سنگھوی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ متنازعہ بیان دینے کے لیے انتخاب جیسے حساس وقت کا انتظار نہیں کرتے۔ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت سے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ کیے گئے تبصروں کو عوامی طور پر پڑھ نہیں سکتے، اس لیے انہوں نے ایک نوٹ پیش کیا ہے۔ عدالت نے عرضی گزاروں کو اس نوٹ کو آفیشل طور پر حلف نامے کے ساتھ ریکارڈ پر لانے کی اجازت دے دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت 28 مئی کو ہوگی، جس میں ریاستی حکومت کے موقف اور وزیر اعلیٰ کے بیانات پر قانونی طور پر غور کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے عرضی گزاروں نے جلد کارروائی کی امید ظاہر کی ہے۔



