کیا ‘بہاری ہونا ‘ ہی پانڈو کمار کا سب سے بڑا جرم بن گیا؟
نئی دہلی؍پٹنہ: ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں کھگڑیا کے رہنے والے 23 سالہ نوجوان پانڈو کمار کا صرف اس لیے گولی مار کر قتل کر دیا گیا کیونکہ وہ ’بہاری‘ تھا۔ اس ’بہاری ہونے کے جرم‘ کی پاداش میں اس کا دوست کرشنا بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس لرزہ خیز واقعے نے دہلی میں مقیم بہاریوں کے تحفظ اور بی جے پی حکومت کی نیت پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہاں کارپوریشن کونسلر، ایم ایل اے، ایم پی سے لے کر ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ تک سب کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ بہار میں بھی بی جے پی اقتدار میں شامل ہے اور مرکز میں آدھا درجن سے زائد مرکزی وزراء کا تعلق بہار سے ہے، لیکن اس کے باوجود ایک غریب اور محنتی بہاری نوجوان کی جان سرِ عام لے لی گئی۔ الزام لگایا گیا ہے کہ بی جے پی کی حکومتیں اور انتظامیہ محنتی بہاریوں کو عزت کے بجائے شک، نفرت اور کمتری کی نظر سے دیکھتی ہیں۔حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 21 سالوں سے نتیش-بی جے پی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بہار کے لوگ دوسرے صوبوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں مسلسل تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والی دہلی پولیس، جس پر شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہے، اس نے محض ’بہاری‘ ہونے کی بنیاد پر ایک نوجوان کو مجرم سمجھ کر گولی مار دی۔ یہ واقعہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ بہار اور بہاریوں کے وقار پر ایک گہرا زخم ہے۔مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ ‘ڈبل انجن ‘ حکومت فوری طور پر اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کرائے اور ملوث پولیس اہلکار سمیت تمام قصورواروں کو سخت ترین سزا دلائے۔ متاثرہ خاندان کے لیے مناسب معاوضے اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ این ڈی اے کے لیڈران، جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اس واقعے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ بہار کے عوام اب فوری انصاف اور اپنے وقار کی بحالی چاہتے ہیں۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593331