National

انڈیا اتحاد میں سات ریاستوں میں سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق: وینوگوپال

42views

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا ہے کہ انڈیا اتحاد کے درمیان سات ریاستوں میں سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’گزشتہ ہفتے کے دوران، انڈیا الائنس نے اتر پردیش، مدھیہ پردیش، دہلی، گوا، گجرات، ہریانہ اور چنڈی گڑھ میں اہم سیٹوں کی تقسیم پر مہر لگا دی ہے اور امید ہے کہ اتحاد دیگر سیٹوں کے لیے جلد ہی مثبت نتیجہ پر پہنچے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم کا کام جاری ہے لیکن اس معاملے پر این ڈی اے میں خاموشی ہے کیونکہ وہ ایک موقع پرست اتحاد ہے۔ انہوں نے پوچھا، ’’این ڈی اے میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا تمام غلط سوچ والے، بدعنوان اور موقع پرست ’ایم اینڈ اے‘ سودے بی جے پی کی راتوں کی نیندیں حرام کر رہے ہیں؟ بہار میں ابھی تک سیٹوں کی تقسیم کیوں نہیں ہوئی؟ مہاراشٹر میں جمہوریت پر ہتھوڑا اٹھایا ہے۔ جو پارٹی 400 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کرتی ہے کیا اسے ان پارٹیوں نے یرغمال بنا لیا ہے جنہیں وہ ہڑپنا چاہتی تھی؟‘‘

دریں اثناء کانگریس لیڈر مکل واسنک اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر سندیپ پاٹھک اور آتشی نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کو لے کر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت چاندنی چوک، شمال مشرقی دہلی اور مغربی دہلی کی سیٹوں سے کانگریس الیکشن لڑے گی اور عام آدمی پارٹی باقی چار سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔

کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا، ”بی جے پی کو ہمارے معاملے میں مداخلت کرنے کے بجائے اپنے اتحاد کو سنبھالنا چاہیے۔ این ڈی اے اتحاد میں گھبراہٹ نظر آرہی ہے اور بات 400 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو 400 پار کرنے کا یقین رکھتے ہیں ان میں اتنا مایوسی نہیں ہوتی۔ بی جے پی لیڈر ہمارے اتحاد کے بارے میں جلد بازی میں بیان دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد مسلسل کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس میں شامل ہونے کے لیے کئی اور جماعتوں سے بات چیت جاری ہے۔ انڈیا اتحاد کو کوئی نہیں چھوڑ رہا اور جو چھوڑ گئے وہ بھی شامل ہو رہے ہیں اور جو نہیں آئے تھے وہ بھی شامل ہو رہے ہیں۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Follow us on Google News