National

سی اے اے: رجسٹریشن کے لیے آن لائن پورٹل کے بعد اب موبائل ایپ لانچ کرنے کی تیاری

55views

شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں اس کے خلاف شدید احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ آسام میں 30 سے زائد سیاسی و سماجی تنظیمیں سڑکوں پر ہیں تو تمل ناڈو حکومت نے اسے اپنے یہاں نافذ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس درمیان مرکزی حکومت نے اس کے نفاذ کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ویب پورٹل لانچ کر دیا ہے اور بہت جلد اس کے لیے موبائل ایپ بھی لانچ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

سی اے اے کا نفاذ: آسام کی 30 تنظیمیں سراپا احتجاج، قانون کی نقول نذر آتش کر دیں

مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعے سی اے اے کے نفاذ کے اعلان کے ساتھ ہی یہ ویب وپورٹل جاری کر دیا گیا ہے جس پر غیر مسلم پناہ گزین ہندوستان کی شہریت حاصل کرنے کے لیے آن لائن درخواست دے سکیں گے۔ جبکہ قومی میڈیا کی خبروں کے مطابق بہت جلد اس کے لیے ایک موبائیل ایپ بھی جاری کیا جا ئے گا جس کا نام ’سی اے اے-2019‘ ہوگا۔

مذہب کی بنیاد پر شہریت انسانیت کی توہین ہے، سی اے اے پر ممتابنرجی شدید برہم

واضح رہے کہ شہریت ترمیمی بل 11 دسمبر 2019 کو پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا اور اس کی منظوری کے محض ایک دن بعد ہی اسے صدر جمہوریہ کی بھی منظوری حاصل ہوگئی تھی۔ اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندو، سکھ، جین، بدھ، پارسی اور عیسائی مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ شہریت حاصل کرنے کا خواہشمند31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے ہندوستان میں داخل ہوا ہو۔

سی اے اے، آئین کی دفعہ 14 و 15 کے خلاف، سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل

وزارت داخلہ نے https://indiancitizenshiponline.nic.in پورٹل شروع کیا ہے۔ یہ پورٹل وزارت داخلہ کی جانب سے شہریت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 (CAA-2019) نافذ کرنے کے اعلان کے فوراً بعد ہی پیر کی رات کو ہی لانچ کر دیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت شہریت حاصل کرنے کے لیے 2 اہم دستاویزات کی ضرورت ہوگی۔ پہلا درخواست گزار کے کردار کی تصدیق کرنے والا حلف نامہ اور دوسرا آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل ہندوستانی زبانوں میں سے کسی ایک سے اچھی واقفیت رکھنے کا ڈکلریشن۔

اننت ہیگڑے کے آئین کی تبدیلی کے بیان پر کانگریس کا سوال، کیا پی ایم  کارروائی کریں گے؟‘

شہریت دینے کے یہ ہیں اصول

غیر مسلم پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت کے لیے آن لائن درخواست دینی ہوگی، جس پر ضلعی سطح کی کمیٹی غور کرے گی۔ تصاویر کے ساتھ تمام دستاویزات آن لائن اپ لوڈ کرنے ہوں گے جائیں گی۔

سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعے درخواست دہندہ کے پس منظر کی جانچ کے بعد ہی درخواست پر کارروائی کی جائے گی۔ چونکہ CAA 6 مذاہب کے لوگوں کے لیے ہے، اس لیے ان لوگوں کو شہریت حاصل کرنے کے لیے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں سرکاری حکام کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات فراہم کرنے ہوں گے۔

درخواست دہندگان کو مقامی طور پر معروف کمیونٹی ادارے کے ذریعے جاری کردہ اہلیت کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوگا، جس میں واضح طور پر لکھا ہو وہ ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی مذاہب سے ہے اور وہ اسی مذہب میں رہے گا۔

وزارت داخلہ کے مطابق درخواست جمع کرانے کے بعد اس کی رسید (ایکنالج منٹ) خود بخود جنریٹ ہوگی۔

ضلعی سطح کی کمیٹی درخواست کے ساتھ دیے گئے کاغذات کی جانچ کرے گی۔

درخواست کے ساتھ مقررہ فارمیٹ میں دیے گئے حلف نامہ کی جانچ کرنے کے بعد، ضلعی سطح کی کمیٹی کا نامزد افسر اسے اپنے دستخط کے ساتھ آن لائن موڈ میں ایمپاورڈ کمیٹی کو بھیجے گا۔

اگر کسی درخواست دہندہ کو ضلعی کمیٹی کے سامنے حلف نامہ دینے کے لیے بلایا جاتا ہے اور بار بار کال کرنے کے باوجود وہ حاضر نہیں ہوتا ہے، تو ضلعی سطح کا افسر درخواست کو مسترد کرنے کی سفارش کر سکتا ہے۔

ایمپاورڈ کمیٹی میں پانچ ارکان مرکزی حکومت کی جانب سے اور ایک ریاستی حکومت کی جانب سے ہونے کی بات کہی گئی ہے۔

سی اے اے کے سیکشن 6 بی کے تحت درخواست کون دے سکتا ہے؟

متعلقہ شخص ہندوستانی نژاد ہونا چاہیے۔

ہندوستانی شہری سے شادی کیا ہونا ضروری ہے۔

درخواست گزار کسی ہندوستانی شہری کا نابالغ اولاد ہو۔

وہ شخص جس کے والدین ہندوستان کے شہری ہوں۔

ایسا شخص جس کے والدین میں سے ایک آزاد ہندوستان کے شہری رہے ہوں۔

درخواست دہندہ کو ہندوستان کا بیرون ملک شہری کارڈ ہولڈر ہونا چاہیے۔

ایسا بالغ شخص جو پانچ سال کے لیے ہندوستان کے بیرون ملک شہری کے طور پر رجسٹرڈ ہو اور جو ایک سال سے ہندوستان میں مقیم ہے۔

Follow us on Google News