دن کے ساتھ راتیں بھی ہوئیں گرم، معمولات زندگی بری طرح متاثر
ڈالٹن گنج 45.7 ڈگری کے ساتھ ریاست کا سب سے گرم مقام؛ ریمس او پی ڈی میں موسمی بیماریوں کے مریضوں کا تانتا
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 26 مئی: جھارکھنڈ میں پڑنے والی شدید اور جھلسا دینے والی گرمی نے عام لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ حالات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ اب صرف دن کے وقت ہی نہیں، بلکہ رات کے وقت بھی لوگوں کو گرمی سے کوئی راحت نہیں مل رہی ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور حبس نے عام زندگی کو پوری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے کئی اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بھی معمول سے کافی زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے راتیں بھی شدید گرم ہو گئی ہیں اور لوگ بے حال ہیں۔
سڑکوں پر سناٹا اور تپتی دوپہر
دارالحکومت رانچی سمیت ریاست کے کئی شہروں میں صبح سویرے سے ہی گرم ہوائیں (لو) چلنے لگتی ہیں۔ صبح 9 بجتے ہی تیز دھوپ کے باعث لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوپہر ہونے سے پہلے ہی شہر کی مصروف ترین سڑکوں اور بازاروں میں ہو کا عالم ہو جاتا ہے اور ہر طرف سناٹا پسرا دکھائی دیتا ہے۔ جن شاہراہوں پر عام دنوں میں گاڑیوں کا ہجوم رہتا تھا، وہاں اب اکا دکا گاڑیاں ہی نظر آتی ہیں۔ پیدل چلنے والے راہگیر اپنے سر اور چہرے کو تولیے یا گمچھے سے ڈھانپ کر تپتی دھوپ اور لو کے تھپیڑوں سے بچنے کی جدوجہد کرتے نظر آ رہے ہیں۔
مختلف اضلاع میں درجہ حرارت کی صورتحال
ریاست کا سب سے گرم علاقہ ڈالٹن گنج رہا، جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45.7 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ یہاں کا کم سے کم درجہ حرارت بھی بڑھ کر 28.4 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ بوکارو تھرمل میں کم سے کم درجہ حرارت 26.1 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 3.2 ڈگری زیادہ ہے۔ دارالحکومت رانچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.8 ڈگری اور کم سے کم 26.2 ڈگری درج کیا گیا، جبکہ جمشید پور میں پارہ 41.6 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی بہار اور اس کے گردونواح میں بننے والے سائکلونک سرکولیشن کا اثر جھارکھنڈ پر پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے پلامو، گڑھوا اور چترا سمیت شمال مغربی اضلاع میں ‘ہیٹ ویو ‘ کی صورتحال برقرار ہے۔
اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ
شدید گرمی اور لو کا براہِ راست اثر لوگوں کی صحت پر بھی صاف دکھائی دے رہا ہے۔ گرم ہواؤں کی زد میں آنے سے بخار، الٹی، دست اور ڈی ہائیڈریشن کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ریمس (RIMS) کے میڈیسن او پی ڈی میں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق او پی ڈی میں آنے والے تقریباً 40 فیصد مریض موسمی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں الٹی اور دست کے مریض سب سے زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ دل، گردے اور شوگر کے مریضوں کی پریشانیاں بھی بڑھ گئی ہیں اور نازک حالت والے مریضوں کو احتیاطاً اسپتال میں داخل کرنا پڑ رہا ہے۔ ریمس فارمیسی میں او آر ایس اور دیگر ضروری دواؤں کا اضافی اسٹاک محفوظ کر لیا گیا ہے۔ تاہم، محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 27 مئی سے رانچی سمیت کئی اضلاع میں بادل چھانے اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے، جس سے لوگوں کو گرمی سے تھوڑی راحت ملنے کی امید ہے۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596337