بنگلور، 14 مئی:۔ (ایجنسی) کرناٹک کی کانگریس حکومت نے ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں یونیفارم سے متعلق سابقہ بی جے پی حکومت کے 5 فروری 2022 کے اس متنازع حکم کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا ہے، جس کی بنیاد پر طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق اب طلبہ کو مقررہ یونیفارم کے ساتھ “محدود روایتی اور مذہبی علامات” پہننے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ 1984 کے تحت 13 مئی کو جاری کردہ نئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اور نجی اسکولوں و کالجوں کے طلبہ حجاب، اسکارف، پگڑی، مذہبی دھاگا یا رودراکش جیسی علامات پہن سکتے ہیں۔ حکومتی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ علامات اس شرط پر پہنی جا سکتی ہیں کہ وہ مقررہ یونیفارم کے ساتھ مطابقت رکھتی ہوں اور اس سے نظم و ضبط، سیکورٹی یا شناخت کے عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ وزیر تعلیم مدھو بنگارپا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اب کسی بھی طالب علم کو ان مذہبی یا روایتی علامات کی وجہ سے کلاس روم، امتحانی ہال یا کسی بھی تعلیمی سرگرمی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ تعلیمی اداروں میں کسی بھی طالب علم کو ایسی علامات پہننے یا انہیں ہٹانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کے اس فیصلے کو ریاست میں تعلیمی آزادی اور مذہبی حقوق کی بحالی کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594923