ابھیشیک بنرجی پر تنقید کرنے والے 5 ترجمانوں کو شوکاز نوٹس
24 گھنٹے میں جواب طلب
کولکاتہ : مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد آل انڈیا ترنمول کانگریس کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ پارٹی قیادت نے ابھیشیک بنرجی کے خلاف بیان دینے والے پانچ ترجمانوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے انہیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے سینئر رہنما ڈیرک اوبرائن نے ان پانچوں کو نوٹس بھیجا ہے اور 24 گھنٹوں کے اندر وضاحت طلب کی گئی ہے کہ پارٹی ڈسپلن توڑنے پر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔جن رہنماؤں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے ان میں کوہ نور مجمدار، رجو دتہ، کرشنندو چودھری، پاپیا گھوش اور کارتک گھوش شامل ہیں۔ ان تمام رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے پارٹی کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے خلاف کھل کر بیان بازی کی اور انتخابی شکست کے لیے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا۔پارٹی کی شکست کے بعد ترنمول کے اندر ابھیشیک بنرجی کے کردار کو لے کر مسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ کچھ رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں پارٹی کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ابھیشیک کی سیاسی حکمت عملی اور قیادت رہی۔ اس معاملے نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب کرشنندو نارائن چودھری، رابندر ناتھ گھوش اور کوہ نور مجمدار نے کھل کر بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی قیادت پر تنقید شروع کر دی۔اس کے بعد ترنمول کانگریس کی جانب سے سخت پیغام دیا گیا کہ ابھیشیک بنرجی کے خلاف کسی بھی قسم کی تنقید یا ناراضگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی کے اندر یہ واضح اشارہ دیا گیا کہ قیادت ابھیشیک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ادھر گزشتہ منگل کو کالی گھاٹ میں جیتنے والے امیدواروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کے دوران پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے بھی ابھیشیک بنرجی کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے اجلاس میں کہا کہ ابھیشیک نے انتخابات سے پہلے پارٹی کے لیے دن رات محنت کی۔ ممتا بنرجی نے موجود رہنماؤں سے کہا کہ وہ کھڑے ہو کر ابھیشیک کی محنت کا احترام کریں۔ اس کے بعد اجلاس میں موجود تمام لیڈر احترام میں کھڑے ہو گئے، جن میں شوبھندیب چٹرجی، بمان بنرجی، فرہاد حکیم اور جاوید خان جیسے سینئر رہنما بھی شامل تھے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ترنمول کانگریس اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے اندرونی بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف پارٹی شکست کے صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری جانب قیادت کے خلاف اٹھنے والی آوازیں پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ اب سب کی نظریں ان پانچ ترجمانوں کے جواب اور پارٹی کی آئندہ کارروائی پر ٹکی ہوئی ہیں۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594300