خاتون آرمی افسر کے خلاف نازیبا ریمارکس پر چیف جسٹس نے وزیر کی معافی کو ’فرضی دفاع‘ قرار دے کر مسترد کر دیا
سپریم کورٹ کی مدھیہ پردیش حکومت کو سخت سرزنش؛ وزیر کے خلاف مقدمہ چلانے میں تاخیر پر برہمی
نئی دہلی، 08 مئی:۔ (ایجنسی) سپریم کورٹ نے کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں قابل اعتراض ریمارکس دینے پر مدھیہ پردیش کے وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری میں تاخیر پر ریاستی حکومت کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ جمعہ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی درخواست پر فیصلہ دو ہفتے قبل ہو جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کے معاملات میں تاخیر ناقابل برداشت ہے۔
ایس آئی ٹی کی رپورٹ اور وزیر کا ‘عادی ‘ رویہ
سماعت کے دوران جسٹس باغچی نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک چونکا دینے والا ریمارکس دیا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر موصوف کو اس طرح کے نازیبا تبصرے کرنے کی ‘عادت ‘ ہے۔ بنچ نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ یہ محض ‘زبان کا پھسلنا ‘ تھا۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ غلطی ہوتی تو وزیر فوری طور پر معافی مانگ لیتے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ وہ اپنے تمام حالات پر غور کرے اور مقدمہ چلانے کی منظوری پر فوری فیصلہ لے۔
’تعریف نہیں، یہ انتہائی بدقسمتی تھی‘: سپریم کورٹ
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے وزیر کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ خاتون افسر کی تعریف کرنا چاہتے تھے لیکن الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھا۔ اس پر بنچ نے سخت لہجے میں کہا، “یہ بدقسمتی نہیں، بلکہ انتہائی بدقسمتی تھی۔” عدالت نے مزید کہا کہ ایک سیاستدان بخوبی جانتا ہے کہ کسی خاتون افسر کی تعریف کیسے کی جاتی ہے، اس لیے اس بیان کو ‘غلط فہمی ‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فرضی معافی نامہ قبول نہیں: سی جے آئی
وزیر کے وکیل منیندر سنگھ نے جب یہ کہا کہ ان کے موکل نے عوامی طور پر معافی مانگ لی ہے، تو چیف جسٹس نے اسے ‘غیر حقیقی ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ سی جے آئی نے ریمارکس دیے، “صرف عدالت کا نوٹس دیکھ کر خط لکھ دینا معافی نہیں ہے، یہ محض ایک فرضی دفاع ہے۔ آپ کو پہلے ہی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنی چاہیے تھی۔”
پس منظر: آپریشن سندور کی ہیرو کرنل صوفیہ قریشی
واضح رہے کہ کرنل صوفیہ قریشی ایک جری آرمی آفیسر ہیں جنہوں نے گزشتہ سال ‘آپریشن سندور ‘ کے دوران بین الاقوامی میڈیا کے سامنے بھارت کا موقف انتہائی مضبوطی سے پیش کیا تھا۔ ان کی خدمات کو پوری قوم نے سراہا تھا، لیکن وزیر کے مبینہ نازیبا ریمارکس کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ عدالت نے اب اس معاملے کی اگلی سماعت چار ہفتوں بعد مقرر کی ہے، تب تک حکومت کو مقدمہ چلانے کی منظوری پر فیصلہ لینا ہوگا۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594300