ہومInternationalامریکہ نے ایران پر 850 ٹوم ہاک مزائیل داغے

امریکہ نے ایران پر 850 ٹوم ہاک مزائیل داغے

ایک میزائل کی قیمت 34 کروڑ روپے؛ ایک ٹوم ہاک کی تیاری میں 2 سال کا وقت؛ سالانہ پیداوار صرف 600 میزائل، جنگی ضرورت رفتار سے کہیں زیادہ

واشنگٹن،28؍مارچ(ایجنسی): ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ نے بڑے پیمانے پر ٹوم ہاک (Tomahawk) کروز میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ اسے امریکی اسلحہ خانے کا اہم ترین ہتھیار مانا جاتا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق چار ہفتوں میں 850 سے زائد میزائل داغے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی بحریہ کے پاس تقریباً 4,000 ٹوم ہاک میزائل موجود تھے۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں، تو ٹوم ہاک میزائلوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ختم ہو چکا ہے، جس نے وزارتِ دفاع کے اندر تشویش بڑھا دی ہے۔تقریباً 34 کروڑ روپے مالیت کے ایک ٹوم ہاک میزائل کو بنانے میں تقریباً 2 سال لگ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کو پورا کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ٹوم ہاک امریکہ کا خاص کروز میزائل ہے۔ یہ 1000 میل (1609 کلومیٹر) تک اڑ کر 1000 پاؤنڈ (453 کلو گرام) دھماکہ خیز مواد درست نشانے پر گرا سکتا ہے۔ اس کے جدید ورژن کی رینج 2500 کلومیٹر ہے۔ٹوم ہاک کا بڑے پیمانے پر پہلا استعمال 1991 کی خلیجی جنگ میں ہوا۔ امریکہ نے عراق پر دور سے سینکڑوں میزائل داغے، جسے ‘ریموٹ وار‘ کہا گیا، کیونکہ پہلی بار اتنی درست اور لمبی دوری کے کروز میزائل استعمال ہوئے تھے۔ ٹوم ہاک کو سمندر میں موجود جنگی جہازوں اور آبدوزوں سے بھی داغا جا سکتا ہے، جس سے دشمن کے علاقے میں داخل ہوئے بغیر حملہ ممکن ہو جاتا ہے۔ امریکہ گزشتہ ایک ماہ سے ایران پر حملے کر رہا ہے، جو کہ مکمل طور پر ‘اسٹینڈ آف اسٹرائیک‘ ہے، یعنی حملہ اتنی دور سے کیا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو زمین پر اترنے کی ضرورت نہیں پڑ رہی۔ماہرین کے مطابق یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ان میزائلوں کی شدید ضرورت ہے۔ اگر جنگ طویل چلی تو امریکہ کے پاس اپنے استعمال کے لیے بھی ٹوم ہاک ختم ہو سکتے ہیں اور اتحادیوں کو دینا مشکل ہو جائے گا۔امریکہ ٹوم ہاک کروز میزائلوں کی پیداوار بہت محدود مقدار میں کرتا ہے۔ موجودہ صلاحیت کے مطابق ایک سال میں تقریباً 600 ٹوم ہاک میزائل بنائے جا سکتے ہیں۔ ایک ٹوم ہاک کی لاگت تقریباً 36 لاکھ ڈالر (34 کروڑ روپے) ہے، جس کے تیز رفتار استعمال نے سپلائی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ٹوم ہاک بننے میں تقریباً 2 سال لگتے ہیں۔
، اس لیے آرڈر کے فوراً بعد یہ دستیاب نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنگ میں ان کا تیزی سے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ اب ایران کے ساتھ تنازع میں ہوا، تو اسٹاک جلدی گھٹ جاتا ہے اور اسے بھرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
جاپان کے ساتھ میزائل بنانے کی ڈیل اٹک گئی
2024 میں ٹوم ہاک کی کمی کا حل اس وقت نظر آیا جب امریکہ جاپان میں مشترکہ پیداوار (Joint Production) کے قریب پہنچا، جس سے پیداوار دوگنی ہو سکتی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ جاپان، امریکہ کے لیے ٹوم ہاک میزائل کے کچھ حصوں کی پیداوار کرے۔ اس کا فائدہ دونوں ممالک کو ملتا۔ جاپان اپنی دفاعی پالیسی میں تبدیلی کر رہا ہے اور لمبی دوری تک مار کرنے کی صلاحیت (Long-range strike capacity) تیار کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے میزائل بنانے میں مدد کرنے کی ہامی بھری۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات