جوہری حملوں کا خوف، ٹرمپ انتظامیہ نے ڈومز ڈے بنکرز خریدنا شروع کر دئیے
واشنگٹن، 13 مارچ (یو این آئی) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ عالمی جنگ کے خدشات کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض عہدیداروں نے جوہری حملوں سے محفوظ خصوصی ڈومز ڈے بنکرز خریدنا شروع کر دیے۔امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو رون ہبارڈ نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ کابینہ کے 2 ارکان نے بم پروف بنکرز خریدے ہیں، یہ بنکرز ڈرون حملوں، بیلسٹک میزائلوں اور حتیٰ کہ ممکنہ جوہری جنگ سے بچاؤ کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں اور اس کے بعد ایرانی جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو یہ تیسری عالمی جنگ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔رون ہبارڈ نے برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد بنکرز کی خریداری کے لیے کالز میں 10 گنا اضافہ ہوگیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہماری کمپنی نے ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں سے صرف 2 روز قبل دبئی میں اپنا دفتر بھی قائم کیا تھا، بعد ازاں دبئی کے چند ارب پتی افراد نے بھی بنکرز خریدنے کے لیے کمپنی سے رابطہ کیا۔رون ہبارڈ کے مطابق ان بنکرز کی قیمت 50 لاکھ ڈالرز سے زائد ہے۔انہوں نے بتایا کہ غزہ جنگ اور روس یوکرین جنگ کے دوران بھی بنکرز کی طلب میں اضافہ ہوا تھا، تاہم ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔رون ہبارڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی ماہانہ فروخت 20 لاکھ ڈالرز سے بڑھ کر اگلے ماہ 5 کروڑ ڈالرز تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کا امریکی معیشت پر اثر
امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر کارروائیوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی نے امریکی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو امریکہ کو مہنگائی، معاشی سست روی اور کاروبار میں بڑے پیمانے پر مسلسل کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے بدھ کے روز دعویٰ کیا تھا کہ ’امریکہ نے جنگ پہلے ہی گھنٹے میں جیت لی تھی‘، تاہم صورتحال تاحال غیر یقینی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہے، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں امریکہ میں پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ایندھن کے معاملات کے تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق بدھ تک امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 3،59 ڈالرز فی گیلن تک پہنچ گئی تھی جو فروری کے مقابلے میں 65 سینٹ زیادہ ہے۔ان کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو ہر ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 25 سے 40 سینٹ مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر تیل کی قیمت طویل عرصے تک 140 ڈالرز فی بیرل کے قریب رہتی ہے تو امریکی معیشت کساد بازاری (معاشی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اور مسلسل کمی) کی طرف جا سکتی ہے۔شکاگو یونیورسٹی کے توانائی پالیسی ماہر سیم اوری کے مطابق تاریخ میں جب بھی تیل کی قیمتیں امریکی مجموعی معیشت کے 4 سے 5 فیصد کے برابر ہوئیں تو اس کے بعد معاشی بحران پیدا ہوا۔’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث خلیج میں بحری ٹریفک متاثر ہونے سے عالمی بندرگاہوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، اگر یہی صورتِ حال ایک ماہ تک جاری رہی تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں تاخیر اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔خلیجی ممالک سے آنے والی مصنوعات جیسے کھاد، پلاسٹک، ادویات اور سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ہیلیم گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے جس سے مستقبل میں زرعی پیداوار اور گاڑیوں سمیت دیگر صنعتوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق جنگ کے طویل ہونے سے امریکی دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو گا اور حکومتی قرض بھی بڑھے گا۔عرب میڈیا نے براؤن یونیورسٹی کے تحقیقی منصوبے ’کاسٹس آف وار‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پہلے ہی عراق اور افغانستان کی جنگوں پر لیے گئے قرضوں کے سود میں کم از کم ایک کھرب ڈالرز ادا کر چکا ہے، اگر خلیج میں جنگ جَلد ختم نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف توانائی کی منڈی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت اور امریکی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔



