ہومWest Bengalووٹر لسٹ تنازع پروزیر اعلی ممتا بنرجی کا بڑا دھرنا

ووٹر لسٹ تنازع پروزیر اعلی ممتا بنرجی کا بڑا دھرنا

ایس آئی آر پر سپریم کورٹ تک لڑائی، انتخابات سے پہلے سیاسی درجہ حرارت بلند

جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ :مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی درجۂ حرارت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ووٹر لسٹ میں خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر (SIR) کے معاملے پر ایک بار پھر ریاست کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ ریاست کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے جمعہ کو کولکاتہ کے دھرمتلہ علاقے میں میٹرو چینل پر دھرنا شروع کر دیا ہے۔ اس احتجاج کے ذریعے وہ الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کے خلاف سخت پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نظرثانی کے نام پر لاکھوں درست ووٹروں کے نام ہٹانے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس کے ذریعے عام لوگوں کے جمہوری حقوق کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل عام شہریوں میں خوف اور بے یقینی پیدا کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے سڑک پر اتر کر احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی بھی اس احتجاج میں ان کے ساتھ شامل ہیں۔ پولیس سے اس دھرنے کی اجازت 16 مارچ تک لی گئی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ احتجاج کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی کا یہ قدم ریاست کی سیاست میں ایک بار پھر سنگور تحریک کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ دہائی قبل جب وہ اپوزیشن لیڈر تھیں تو انہوں نے ٹاٹا کی نینو فیکٹری کے خلاف کسانوں کی زمین بچانے کے لیے سنگور تحریک کی قیادت کی تھی۔ اس وقت انہوں نے دھرمتلہ کے اسی میٹرو چینل پر 26 دن تک بھوک ہڑتال کی تھی جس نے ریاست کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی تھی۔ آج وہ تین بار وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں ایک بار پھر وہ سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے خود کو عوامی حقوق کی لڑائی کا چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں بنگال کے عوام نے ممتا بنرجی کو زیادہ تر ایک منتظم اور حکومت چلانے والی لیڈر کے طور پر دیکھا ہے۔ ریاستی حکومت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اسکیموں کو وہ بار بار اجاگر کرتی رہی ہیں۔
لیکن اسمبلی انتخابات کے قریب آتے ہی ان کا انداز ایک بار پھر جارحانہ اور احتجاجی سیاست کی طرف مڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود سڑکوں پر دھرنا دے کر وہ یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ اب بھی عام لوگوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی وہی پرانی ممتا بنرجی ہیں۔ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ کی اس نظرثانی کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے پیچھے مرکزی حکومت کا ہاتھ ہے اور الیکشن کمیشن اس معاملے میں جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہا ہے۔ ترنمول کا کہنا ہے کہ اس عمل کے باعث عام لوگوں میں شدید خوف پیدا ہو گیا ہے اور کئی علاقوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے وزیر اعلیٰ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی ہمیشہ سے عوام کے حقوق کے لیے لڑتی آئی ہیں۔ ان کے مطابق جب لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہوں اور عوام خوف میں مبتلا ہوں تو وزیر اعلیٰ کا سڑک پر آنا فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت جانا پڑا تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں اور جب تک انصاف نہیں ملتا یہ لڑائی جاری رہے گی۔سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس احتجاج کے پیچھے ایک بڑی سیاسی حکمت عملی بھی موجود ہے۔ اپوزیشن جماعت بی جے پی نے 15 مارچ کو کولکاتہ کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑی ریلی کا اعلان کیا ہے جس میں ریاست میں تبدیلی کا نعرہ دیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق ممتا بنرجی نے اس سے پہلے ہی میدان میں اتر کر سیاسی بیانیے کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کی ہے۔یوں ایک طرف ترنمول کانگریس حکومت اپنی ترقیاتی اسکیموں اور فلاحی منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے، تو دوسری طرف مرکز کے خلاف سیاسی محاذ بھی کھول رہی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بنگال میں اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو چکا ہے اور سڑکوں پر احتجاج، جلسے اور ریلیاں آنے والے دنوں میں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات