ہومAndhra Pradeshمغربی بنگال کابینہ کی پہلی میٹنگ میں بی ایس ایف کو زمین...

مغربی بنگال کابینہ کی پہلی میٹنگ میں بی ایس ایف کو زمین کی منتقلی اور آیوشمان بھارت اسکیم کی منظوری

کولکاتہ، 11 مئی (یو این آئی) مغربی بنگال کی نئی تشکیل شدہ حکومت نے پیر کے روز ریاستی سیکریٹریٹ نبنا میں اپنی پہلی کابینہ میٹنگ منعقد کی۔ میٹنگ کے بعد حکومت نے انتظامی، سیکورٹی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق کئی اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔ ان میں ہند-بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو زمین منتقل کرنا اور ریاست میں آیوشمان بھارت صحت اسکیم سمیت مرکزی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں کو نافذ کرنا شامل ہے۔وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے کابینہ میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے بی ایس ایف کو زمین منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زمین کی منتقلی کا عمل آج سے شروع ہو رہا ہے اور اگلے 45 دنوں کے اندر یہ زمین مرکزی وزارت داخلہ کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد بی ایس ایف سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے مکمل کرے گی، جس سے غیر قانونی دراندازی کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران سرحدی علاقوں میں دراندازی اور باڑ بندی کا مسئلہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کا ایک اہم موضوع رہا تھا۔ بی جے پی نے سابق ترنمول کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر بی ایس ایف کو زمین فراہم نہیں کی تاکہ سرحدی انفراسٹرکچر کی تعمیر نہ ہو سکے۔ پارٹی کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ سرحد پار سے آنے والے غیر قانونی درانداز بعض سرحدی اضلاع میں ترنمول کانگریس کے ووٹ بینک کا حصہ بن چکے ہیں۔مغربی بنگال کی بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً 2216.7 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے، جس کے ایک بڑے حصے پر اب تک باڑ نہیں لگائی جا سکی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ریاست میں بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں پانچ سال کی رعایت دی جائے گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئی حکومت اچھی حکمرانی، عوامی تحفظ اور ترقیاتی کاموں کو اولین ترجیح دے گی اور ریاست کو مرکزی حکومت کی اہم فلاحی اسکیموں سے مزید مؤثر طریقے سے جوڑا جائے گا۔
مسٹر ادھیکاری نے کہا، ’’ریاست میں آزادانہ، منصفانہ اور پُرامن انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔ میں مغربی بنگال کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے حکومت بنانے کے لیے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا۔‘‘وزیر اعلیٰ کی اہم اعلانات میں ریاست میں باضابطہ طور پر آیوشمان بھارت اسکیم نافذ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔مسٹر ادھیکاری کے ہمراہ ان کے کابینہ وزراء دلیپ گھوش، نشیت پرامنک، اگنی مترا پال، اشوک کیرتنیا اور خودیرام ٹوڈو بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے محکمۂ صحت کے سینئر افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ مرکزی وزارتِ صحت کے حکام سے رابطہ قائم کریں اور جلد از جلد تمام ضروری رسمی کارروائیاں مکمل کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کے علاوہ ریاست میں جن آروگیہ یوجنا، فصل بیمہ اسکیم اور اُجالا یوجنا سمیت مرکزی حکومت کی دیگر فلاحی اسکیمیں بھی نافذ کی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ نے ریاستی انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایس افسران کو ایک مرکزی تربیتی نظام سے جوڑا جائے گا تاکہ انتظامیہ کو مزید مؤثر اور جواب دہ بنایا جا سکے۔انہوں نے سابق ترنمول کانگریس حکومت پر مردم شماری سے متعلق مرکزی وزارتِ داخلہ کی ہدایات کے نفاذ میں تاخیر کا الزام بھی عائد کیا۔ مسٹر ادھیکاری نے کہا، ’’ہم نے آج مردم شماری کے عمل کے آغاز سے متعلق ایک انتظامی ہدایت جاری کر دی ہے۔
یہ کام تقریباً 11 ماہ کی تاخیر کے بعد اب شروع ہو رہا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’16 جون 2025 کو وزارتِ داخلہ نے رجسٹرار جنرل آف انڈیا اور مردم شماری کمشنر کے دفتر کے ذریعے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، لیکن اس کے باوجود تقریباً ایک سال تک مردم شماری کے عمل کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا۔ ان کا مقصد حلقہ بندی کے عمل اور خواتین، خاص طور پر ہماری ماؤں اور بہنوں کے لیے ریزرویشن سے متعلق وزیر اعظم کی پہل میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔
اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔‘‘وزیر اعلیٰ نے عوام کو یقین دلایا کہ موجودہ فلاحی اسکیمیں جاری رہیں گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شفافیت کو بہتر بنانے اور فوائد کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت تصدیقی نظام نافذ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم کسی بھی بے ایمان شخص کو پچھلے دروازے یا خامیوں کے ذریعے ان اسکیموں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تمام عمل مکمل طور پر شفاف ہوگا۔‘‘مغربی بنگال کی نئی حکومت نے متاثرہ خاندانوں اور بی جے پی کے مقتول کارکنوں کے اہلِ خانہ کی مدد کا بھی وعدہ کیا ہے۔ مسٹر ادھیکاری نے کہا کہ سیاسی قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ 6 مئی کو مسٹر ادھیکاری کے نجی معاون چندرناتھ رتھ کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ شمالی 24 پرگنہ میں اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات