— الیکشن کمیشن کی ساکھ پر ابھیشیک بنرجی کا کاری وار
کولکاتہ:ترنمول کانگریس کے آل انڈیا جنرل سکریٹری اور ڈائمنڈ ہاربر کے رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے الیکشن کمیشن کے کردار پر ایک بار پھر بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ باروئی پور میں منعقد ایک عوامی میٹنگ میں ابھیشیک نے ایسا منظر پیش کیا جس نے سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل مچا دی۔ انہوں نے اسٹیج پر تین ایسے افراد کو بلا لیا جنہیں الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں ’مردہ‘ یعنی ’گھوسٹ ووٹر‘ قرار دے دیا گیا تھا، حالانکہ وہ سب زندہ تھے۔ اس واقعے کے محض تین دن کے اندر الیکشن کمیشن کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ان معاملات میں نادانستہ غلطی ہوئی ہے۔نئے سال کے دوسرے دن باروئی پور میں ہونے والی میٹنگ کے دوران ابھیشیک بنرجی نے اپنی تقریر کے بیچ میں تین افراد کو اسٹیج پر پیش کیا۔ ان میں دو مرد اور ایک خاتون شامل تھیں۔ دو افراد کی شناخت منیرالمولہ اور ہری کرشنا گری کے طور پر کی گئی، جبکہ خاتون کا نام مایا داس بتایا گیا۔ ابھیشیک نے مجمع سے مخاطب ہوتے ہوئے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر (خصوصی نظرثانی) کے عمل کے دوران ان تینوں کو مردہ قرار دے دیا، حالانکہ وہ زندہ ہیں اور عوام کے سامنے موجود ہیں۔ابھیشیک بنرجی نے دعویٰ کیا کہ منیرالمولہ اور ہری کرشنا گری میٹیابوروج کے رہنے والے ہیں، جبکہ مایا داس کاکدیپ کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف تین افراد کا معاملہ نہیں بلکہ جنوبی 24 پرگنہ ضلع میں ایسے کم از کم 24 مزید لوگ ہیں جنہیں الیکشن کمیشن نے کاغذوں میں مردہ دکھا دیا ہے۔ ابھیشیک کے اس انکشاف نے الیکشن کمیشن کی شفافیت اور ذمہ داری پر شدید سوالات کھڑے کر دیے۔اس معاملے پر تنازعہ بڑھتے ہی الیکشن کمیشن نے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی۔ بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) اور ای آر او (الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر) سے تفصیلی وضاحت مانگی گئی، جو تین دن کے اندر کمیشن کے پاس جمع کرا دی گئی۔ کمیشن کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں یہ بات تسلیم کی گئی کہ ان تین افراد کے ناموں کے اخراج میں غیر دانستہ اور تکنیکی غلطی ہوئی ہے۔کمیشن کے مطابق، منیرالمولہ اور ہری کرشنا گری کے نام ابتدا میں بوتھ پر تیار کی گئی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں تھے، تاہم بعد میں وہ ویب سائٹ پر ظاہر ہو گئے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد بی ایل او خود دونوں ووٹروں کے گھروں تک پہنچے اور فارم-6 بھروا کر ان کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ ایک کمیشن اہلکار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان دونوں ووٹروں کا فارم-6 ابھیشیک بنرجی کی میٹنگ سے کافی پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا۔یاد رہے کہ چند دن قبل ہی ابھیشیک بنرجی نے الیکشن کمشنر سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڑ اور ’’ووٹروں کی چوری‘‘ کا الزام لگایا تھا۔ باروئی پور کی اس میٹنگ میں اسٹیج پر ’بھوت‘ دکھا کر انہوں نے اپنے الزامات کو عوامی انداز میں پیش کیا، جس کے بعد یہ معاملہ ریاستی سیاست کا مرکز بن گیا ہے۔اگرچہ الیکشن کمیشن نے غلطی مان لی ہے، لیکن اپوزیشن اور عوامی حلقوں میں یہ سوال بدستور گونج رہا ہے کہ اگر زندہ ووٹروں کو مردہ قرار دیا جا سکتا ہے تو ووٹر لسٹ پر اعتماد کیسے کیا جائے؟ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں ریاستی سیاست اور انتخابی عمل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔



