ڈائمنڈ ہاربر اور ماگراہٹ پچھم میں عوام کا والہانہ جوش، 86.9 فیصد ٹرن آؤٹ درج
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ : ریاست کے دو اہم اسمبلی حلقوں میں دوبارہ پولنگ کے دوران عوام نے جمہوری عمل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالے۔ ہفتے کے روز شام 5 بجے تک مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 86.9فیصد تک پہنچ گیا، جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ خراب موسم کے باوجود عوام اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ ڈائمنڈ ہاربر اسمبلی حلقے میں 87.6فیصد جبکہ ماگراہٹ پچھم میں 86.11فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو کہ غیر معمولی طور پر بلند شرح ہے۔قابل ذکر ہے کہ یہ دوبارہ پولنگ 15 مخصوص بوتھس پر کرائی گئی، جہاں 29 اپریل کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں مبینہ چھیڑ چھاڑ اور بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ ان شکایات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے فوری کارروائی کی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دوبارہ ووٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اس دوران ہر پولنگ اسٹیشن پر سخت سیکورٹی تعینات کی گئی تاکہ ووٹرز بلا خوف و خطر اپنا ووٹ ڈال سکیں۔بارش کے باوجود ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر نظر آئی، خاص طور پر جنوبی 24 پرگنہ کے منگراہاٹ پچھم علاقے میں صبح سے ہی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ بزرگ، خواتین اور نوجوان سبھی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس سے جمہوریت کے تئیں عوامی وابستگی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ادھر الیکشن کمیشن نے 4 مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے لیے بھی غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ گنتی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، محفوظ اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اضافی کاؤنٹنگ آبزرورز اور پولیس آبزرورز تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ افسران آئین ہند کے آرٹیکل 324 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت اپنے فرائض انجام دیں گے اور ہر مرحلے کی باریکی سے نگرانی کریں گے۔165 ایسے اسمبلی حلقوں میں جہاں ایک سے زیادہ کاؤنٹنگ ہالز موجود ہیں، وہاں خصوصی طور پر اضافی آبزرورز تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی گڑبڑی یا شکایت کی فوری جانچ ہو سکے۔ پولیس آبزرورز کاؤنٹنگ مراکز کے باہر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی قسم کا دباؤ یا خلل پیدا نہ ہو، تاہم انہیں کاؤنٹنگ ہال کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔گنتی کے مراکز میں داخلے کے لیے بھی سخت ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔ صرف کیو آر کوڈ پر مبنی فوٹو آئی ڈی کارڈ رکھنے والے افراد کو ہی اندر جانے کی اجازت ہوگی۔ موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، سوائے کاؤنٹنگ آبزرورز اور ریٹرننگ افسران کے۔ ہر راؤنڈ کے اختتام پر نتائج کو باقاعدہ فارم 17C-II میں درج کیا جائے گا، جس پر کاؤنٹنگ ایجنٹس کے دستخط بھی لیے جائیں گے تاکہ مکمل شفافیت برقرار رہے۔مزید برآں، ہر ٹیبل پر موجود مائیکرو آبزرورز بھی نتائج کو الگ سے نوٹ کریں گے اور کاؤنٹنگ آبزرور کو پیش کریں گے، تاکہ کسی بھی ممکنہ غلطی یا تنازع کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ اگر کاؤنٹنگ ایجنٹس چاہیں تو نتائج کی دوبارہ تصدیق بھی کرائی جا سکتی ہے، جس سے شفافیت کے عمل کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔یاد رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو مکمل ہوئی تھی، جس میں مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 92.67 فیصد رہا تھا، جو خود ایک ریکارڈ ہے۔ اب تمام نظریں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور ریاست کی آئندہ سیاسی سمت کا فیصلہ ہوگا۔سیاسی مبصرین کے مطابق، جس طرح ووٹنگ کے دوران عوام نے بھرپور شرکت کی ہے اور الیکشن کمیشن نے گنتی کے لیے سخت اور شفاف انتظامات کیے ہیں، اس سے امید کی جا رہی ہے کہ نتائج پر سبھی فریقین کو اعتماد ہوگا اور جمہوری عمل مزید مضبوط ہوگا۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593725