ترنمول کارکنوں پر اینٹوں اور لاٹھیوں سے حملہ، سابق کونسلر سمیت پانچ زخمی
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ :مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ختم ہوتے ہی کولکاتہ کے مختلف علاقوں میں کشیدگی بڑھ گئی، جہاں آل انڈیا ترنمول کانگریس (ترنمول کانگریس) نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حمایت یافتہ عناصر اور مرکزی فورسز نے حملے کیے، جنوبی کولکاتہ کے بہالہ ویسٹ کے وارڈ نمبر 129 کے رابندر نگر رام کرشنا پلی علاقے میں ترنمول کارکنوں پر اینٹوں اور بانس کی لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا جس میں ایک سابق کونسلر سمیت کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں ریاستی ترنمول کے آرگنائزنگ سکریٹری انجن داس بھی شامل ہیں جن کے سر پر شدید چوٹ آئی اور انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا جبکہ بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، پولیس نے اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور علاقے میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے، واقعے کی اطلاع ملتے ہی بہالہ ویسٹ سے ترنمول امیدوار رتنا چٹرجی موقع پر پہنچیں اور سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اپنی ممکنہ شکست سے گھبرا کر ایسے حملے کروا رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملزمان کو جلد گرفتار نہ کیا گیا تو پارٹی احتجاج کرے گی، دوسری جانب کولکاتہ کے نیو علی پور علاقے میں مرکزی فورس سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) پر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جہاں ترنمول کا کہنا ہے کہ فورسز نے کچی بستیوں میں داخل ہو کر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی، ان کے کپڑے پھاڑے اور مار پیٹ کی جس میں کم از کم نو افراد زخمی ہوئے جن میں تین کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں ٹالی گنج کے بنگور اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، اسی دوران جودھ پور پارک ویمنس پولی ٹیکنک کے قریب بھی مبینہ طور پر ترنمول کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، راش بہاری سے ترنمول امیدوار دیباشیش کمار نے اسپتال پہنچ کر الزام لگایا کہ بی جے پی نے مرکزی فورسز کا استعمال کرتے ہوئے ترنمول کارکنوں کے گھروں تک میں گھس کر تشدد کیا تاکہ عوام کو ڈرایا جا سکے، ان کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے بعد بھی ایسے واقعات جمہوری عمل پر سوالیہ نشان ہیں، پولیس اور انتظامیہ نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے حساس علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں، ان واقعات کے بعد کولکاتہ میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بڑھ گیا ہے اور ماحول کشیدہ بتایا جا رہا ہے۔








Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593544