نئی دہلی : پیسہ لے کر پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے کے معاملہ میں پھنسی ٹی ایم سی ممبر پارلینٹ مہوا موئترا کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ ایتھکس کمیٹی نے مہوا کو پارلیمنٹ سے نکالنے کی سفارش کی ہے۔ ایتھکس کمیٹی نے مہوا کے طرز عمل کو قابل اعتراض، غیر اخلاقی، گھنونا اور مجرمانہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت سے قانونی، ادارہ جاتی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ مہوا موئترا اور کاروباری درشن ہیرانندنی کے درمیان نقد لین دین کی مرکز کو جانچ کرنی چاہئے۔
پارلیمانی ایتھکس کمیٹی کے چیئرمین ونود سونکر نے کہا تھا کہ کاروباری درشن ہیرانندانی نے ٹی ایم سی ممبر پارلیمنٹ مہوا موئترا پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ایتھکس پینل کے سامنے اپنے 3 صفحات کے دستخط شدہ حلف نامہ میں درشن ہیرانندانی نے ٹی ایم سی ممبر پارلیمنٹ مہوا موئترا کے ساتھ اپنی دوستی کا اعتراف کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ لوک سبھا ممبر نے اڈانی گروپ پر حملہ کرنے کو شہرت کے راستے کے طور پر دیکھا۔
انہوں نے مزید کہا: مہوا موئترا لوک سبھا انتخابات 2019 میں ممبر پارلیمنٹ بنی تھیں۔ انہیں اس کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ شہرت کا سب سے چھوٹا راستہ نریندر مودی پر حملہ کرنا ہے۔ گوتم اڈانی اور نریندر مودی دونوں گجرات سے آتے ہیں۔ وزیراعظم پر حملہ کرنے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔











Users Today : 175
Users Yesterday : 274
Users Last 7 days : 1539
Users Last 30 days : 2364
Users This Month : 2350
Users This Year : 2364
Total Users : 4563907