ہراسانی کے الزامات، وزیر اعلیٰ کا قانون کے راستے پر چلنے کا عزم
کولکاتہ :وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایس آئی آر کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے اس عمل کو عوامی ہراسانی کا سبب قرار دیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ لوگوں کو بلا وجہ پریشان کیا جا رہا ہے اور کئی افراد کی موت بھی اس عمل کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ الیکشن کمیشن کا کام غیر شفاف ہے اور واٹس ایپ جیسے غیر رسمی ذرائع پر چلایا جا رہا ہے، جس سے عوام کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ قانونی کارروائی کے ذریعے اس معاملے کا حل نکالیں گی اور ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک وکیل ہیں اور اگر کوئی قانونی کارروائی ضروری ہوئی تو وہ عدالت سے اجازت لے کر اس مسئلے کو سپریم کورٹ میں اٹھائیں گی۔گنگا ساگر کے دورے کے دوران ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کے عمل پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “سماعت کے نام پر لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، 54 لاکھ روپے کے نام نکالے گئے ہیں، انہیں فارم نمبر 7 اور 8 بھرنے کا حق تھا لیکن ان کے نام غیر قانونی طور پر خارج کر دیے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کمیشن کے خلاف اپنی باتوں میں مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ناموں کو نکالنے کا عمل غیر جواز تھا اور اس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا تھا۔ممتا بنرجی نے یہ بھی کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کے خلاف کارروائی کی ضرورت پڑی تو وہ قانون کے راستے پر چل کر عوام کے حقوق کا تحفظ کریں گی۔ ان کے مطابق، یہ معاملہ صرف ایک سیاسی ایشو نہیں بلکہ عوامی حقوق کی جنگ ہے، اور وہ اس لڑائی کو عدالت میں لے جائیں گی تاکہ عوام کو انصاف مل سکے۔



