ہومWest Bengalترنمول میں اندرونی بغاوت تیز

ترنمول میں اندرونی بغاوت تیز

شکست کی وجوہات جاننے کے لیے ممتا بنرجی کی بڑی میٹنگ کل

کولکاتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے اندر بے چینی اور اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ پارٹی کی شکست کے بعد جہاں ایک طرف کارکنوں اور لیڈروں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے، وہیں دوسری طرف پارٹی سپریمو ممتابنرجی نے صورتحال کا جائزہ لینے اور شکست کی وجوہات جاننے کے لیے اگلے جمعہ کو ایک اہم میگا میٹنگ طلب کی ہے۔سیاسی ذرائع کے مطابق ترنمول کانگریس کے کئی ناراض لیڈروں نے حال ہی میں کولکاتہ میں ایک خفیہ میٹنگ بھی کی، جس نے پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی دراڑ کو مزید واضح کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں کئی سابق اور موجودہ رہنماؤں نے پارٹی کی موجودہ قیادت، انتخابی حکمت عملی اور تنظیمی ڈھانچے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ میٹنگ میں شامل کئی لیڈروں نے یہ محسوس کیا کہ پارٹی اپنی اصل سیاسی سمت کھو چکی ہے اور زمینی کارکنوں کی بات سننے کے بجائے کچھ مخصوص لوگوں اور کارپوریٹ مشیروں پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔ ایک سابق ایم ایل اے نے میٹنگ کے دوران کہا کہ پارٹی کی موجودہ پالیسی اور بیانیہ عوام تک واضح انداز میں نہیں پہنچ پا رہا، جس کی وجہ سے تنظیم کمزور ہوئی ہے۔ناراض لیڈروں کا الزام ہے کہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے حقیقی کارکنوں اور مقامی قیادت کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ فیصلہ سازی کا اختیار محدود حلقوں تک سمٹ گیا۔ بعض رہنماؤں نے کہا کہ اب وہ اپنے اپنے اسمبلی حلقوں کی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے خود فیصلے لینے پر مجبور ہوں گے۔اس خبر کے بعد پارٹی کے اندر بغاوت کی قیاس آرائیاں اور تیز ہو گئی ہیں۔ادھر پارٹی سپریمو ممتابنر جی نے اگلے جمعہ کو ضلعی قیادت کے ساتھ ایک بڑی میٹنگ بلائی ہے، جس میں انتخابی شکست کی مکمل وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا انتخابات کے دوران پارٹی کے اندر کسی قسم کی تخریب کاری ہوئی، کن لیڈروں نے پوری طاقت سے کام نہیں کیا اور کون لوگ خفیہ طور پر اپوزیشن کے رابطے میں تھے۔تاہم اس میٹنگ کو لے کر پارٹی کے اندر ایک نئی ناراضگی بھی سامنے آئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کئی موجودہ ایم ایل ایز کو اس اہم اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا، جس سے ان میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔۔دوسری طرف ممتابنرجی مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ ترنمول کانگریس حقیقت میں یہ الیکشن نہیں ہاری۔ بڑی سازش کے تحت پارٹی سے تقریباً 100 سیٹیں چھین لی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران منصوبہ بند طریقے سے پہلے بی جے پی کے مضبوط علاقوں کے ووٹ شمار کیے گئے تاکہ ترنمول کارکنوں کے حوصلے کمزور کیے جا سکیں۔ترنمول قیادت اب اس معاملے کو سیاسی ایشو بنا کر اسمبلی کے اندر اور سڑکوں پر تحریک چلانے کی تیاری میں بھی مصروف ہے۔ پارٹی آئندہ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹیوں اور پنچایت انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ دوبارہ عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔ادھر بی جے پی نے ترنمول کے اندرونی اختلافات پر سخت طنز کیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان دیب جیت سرکارنے کہا کہ ترنمول کانگریس اب بنگال کی سیاست میں اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ انتخابی شکست کے بعد ترنمول کانگریس اس وقت اپنے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ اب سب کی نظریں جمعہ کو ہونے والی اس اہم میٹنگ پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ یہی اجلاس طے کرے گا کہ پارٹی قیادت ناراض لیڈروں کو کس طرح ساتھ لے کر چلتی ہے اور مستقبل کی سیاست کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات