کیا اس بار بدلے گا اقتدار کا کھیل؟
کولکاتہ :مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں جیسے جیسے ووٹنگ کی تاریخ قریب آ رہی ہے، ویسے ویسے دارالحکومت کولکتہ کی سیاسی فضا انتہائی گرم ہوتی جا رہی ہے، شہر کے 11 اسمبلی حلقے اس بار پورے ریاستی الیکشن کا مرکز بن چکے ہیں، جہاں ایک طرف حکمراں جماعت ترنمول کانگریس اپنی مضبوط گرفت برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے تو دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتیں اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے پوری طاقت جھونک رہی ہیں، شہر کی گلیوں سے لے کر بڑے بازاروں، کارپوریٹ علاقوں، رہائشی کمپلیکس اور چائے کی دکانوں تک ہر جگہ سیاست ہی موضوعِ بحث ہے، ہر طبقہ اپنے اپنے مسائل اور امیدوں کے ساتھ اس انتخابی میدان میں دلچسپی لے رہا ہے۔سب سے زیادہ ہائی وولٹیج مقابلہ بھوانی پور میں دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی میدان میں ہیں، وہ اس حلقے سے اپنی سیاسی شناخت رکھتی ہیں اور ایک بار پھر یہاں سے جیت حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن اس بار مقابلہ آسان نہیں کیونکہ بی جے پی کے طاقتور لیڈر شوبھندو ادھیکاری ان کے سامنے کھڑے ہیں، نندی گرام کی سیاسی تلخی کے بعد یہ مقابلہ اور بھی زیادہ اہم بن گیا ہے، اس حلقے میں ووٹر لسٹ سے ہزاروں نام خارج ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے جس نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے، ترنمول اسے اپنی مضبوط سیٹ مانتی ہے جبکہ بی جے پی اسے بڑی کامیابی میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔پورٹ یا بندرگاہ کا علاقہ بھی کم اہم نہیں جہاں فرہاد حکیم ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کی کوشش میں ہیں، یہ علاقہ اقلیتی ووٹ بینک کی وجہ سے ترنمول کے لیے ہمیشہ فائدہ مند رہا ہے، لیکن یہاں کے شہری مسائل جیسے ٹریفک جام، نکاسی آب کی خرابی اور بنیادی سہولیات کی کمی کو بی جے پی نے بڑا انتخابی ہتھیار بنا لیا ہے، گارڈن ریچ اور مٹیابریج جیسے علاقوں میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے باوجود عوامی مسائل نے انتخاب کو دلچسپ بنا دیا ہے۔بیلگھاٹہ میں ترنمول نے نیا چہرہ کنال گھوش کو سامنے لا کر واضح پیغام دیا ہے کہ پارٹی تبدیلی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے، اس حلقے میں ماضی میں تشدد، سنڈیکیٹ راج اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سامنے آتے رہے ہیں، بی جے پی یہاں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اندرونی اختلافات اس کے لیے رکاوٹ بن رہے ہیں، بائیں بازو بھی یہاں اپنی موجودگی دکھا رہا ہے جس سے مقابلہ سہ رخی ہو گیا ہے۔مانیکتلہ تاریخی اور سیاسی لحاظ سے اہم حلقہ ہے جہاں پانڈے خاندان کا طویل اثر رہا ہے، اب نئی نسل کی نمائندگی سامنے آ رہی ہے، لیکن بی جے پی نے بھی یہاں تجربہ کار امیدوار کو میدان میں اتار کر چیلنج سخت بنا دیا ہے، اسی طرح بالی گنج جو امیر طبقے کا علاقہ سمجھا جاتا ہے وہاں بھی مقابلہ دلچسپ ہے، یہاں تعلیم یافتہ اور بااثر ووٹرز کے درمیان سیاسی بحث زیادہ سنجیدہ رخ اختیار کر چکی ہے، ترنمول، بی جے پی اور بائیں بازو تینوں اپنی اپنی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں ہیں۔چورنگی اور اینٹالی جیسے وسطی کولکاتہ کے علاقوں میں شہری مسائل اس بار سب سے بڑا مدعا بنے ہوئے ہیں، ٹریفک جام، پانی جمع ہونا، غیر قانونی تعمیرات اور بنیادی سہولیات کی کمی عوام کو پریشان کر رہی ہے، ان علاقوں میں کانگریس اور بی جے پی دونوں ترنمول کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ ترنمول اپنے ترقیاتی کاموں کو بنیاد بنا کر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔کاشی پور-بیلگچھیا میں گنگا کے کنارے کٹاؤ اور آلودگی جیسے مسائل لوگوں کے لیے بڑا دردِ سر بن چکے ہیں، سڑکوں پر دھول، اسکولوں کی کمی اور ٹریفک کے مسائل نے یہاں کے عوام کو ناراض کر رکھا ہے، شیامپوکر میں سیاسی کشیدگی اور تشدد کے واقعات نے ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے، یہاں ہر پارٹی اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن عوامی غصہ ایک اہم عنصر بن چکا ہے۔جوراسانکو اور راش بہاری جیسے حلقوں میں بھی مقابلہ کم دلچسپ نہیں، جوٖڑاسانکو میں ماضی کے لوک سبھا نتائج نے بی جے پی کو امید دی ہے جبکہ راش بہاری میں ترنمول کی تنظیمی طاقت اب بھی مضبوط نظر آتی ہے، یہاں مذہبی اور ثقافتی اہمیت بھی سیاست پر اثر انداز ہو رہی ہے۔مجموعی طور پر کولکاتہ اس وقت ایک بڑی سیاسی جنگ کا میدان بن چکا ہے جہاں ہر سیٹ پر الگ کہانی، الگ مسئلہ اور الگ مقابلہ نظر آ رہا ہے، ترنمول کانگریس اب بھی مضبوط پوزیشن میں ہے لیکن بی جے پی نے جس شدت سے مہم چلائی ہے اس نے مقابلے کو سنسنی خیز بنا دیا ہے، بائیں بازو بھی خاموشی سے اپنی زمین مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اب سب کی نظریں 29 اپریل کی ووٹنگ اور 4 مئی کے نتائج پر ہیں، کیونکہ یہی دن طے کرے گا کہ کولکاتہ میں اقتدار کا تاج کس کے سر سجے گا اور کیا واقعی اس بار سیاسی تاریخ میں کوئی بڑی تبدیلی لکھی جائے گی یا نہیں۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593191