152 نشستوں پر 1475 امیدوار میدان میں؛ 30 ہیوی ویٹس کی قسمت داؤ پر
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ :ریاست میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کا بڑا دن آ پہنچا ہے جہاں جمعرات کو 16 اضلاع کی 152 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے اور مجموعی طور پر 1475 امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ بیلٹ کے ذریعے ہونے جا رہا ہے، انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اب تمام نظریں ووٹرز کے فیصلے پر مرکوز ہیں، اس مرحلے میں سب سے زیادہ توجہ تقریباً 30 ہیوی ویٹ امیدواروں پر ہے جن کی جیت یا ہار نہ صرف انفرادی سیاسی مستقبل بلکہ مجموعی انتخابی سمت کا بھی تعین کرے گی،حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے اپنی مہم میں ریاست کی مجموعی ترقی، فلاحی اسکیموں اور سماجی پروجیکٹس کو نمایاں کیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آخری لمحے تک جارحانہ مہم جاری رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی کے ذریعے ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کی، دوسری جانب بائیں بازو اور کانگریس اس مرحلے میں اپنی سیاسی زمین بچانے اور مضبوط واپسی کے لیے سرگرم نظر آئے،پارٹیوں نے اس مرحلے کو فیصلہ کن بنانے کے لیے اپنے مضبوط ترین امیدوار میدان میں اتارے ہیں، خاص طور پر ترنمول اور بی جے پی کے درمیان سیدھا مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، حکمراں جماعت کی جانب سے کئی سابق وزراء اور اہم چہرے انتخابی میدان میں موجود ہیں جن میں متنازعہ مگر بااثر رہنما پریش ادھیکاری (میکھلی گنج)، اکھل گری (رام نگر)، مانس بھوئیاں (سبونگ)، راجیو بنرجی (ڈیبرا)، مالے گھٹک (آسنسول شمالی) اور بیربہا ہنسدار (بن پور) شامل ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار کھیلوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے دو نمایاں نام بھی سیاسی میدان میں قسمت آزما رہے ہیں جن میں بین الاقوامی کھلاڑی سوپنا برمن (راج گنج) اور شیوشنکر پال (طوفان گنج) شامل ہیں، جس سے انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ اور غیر متوقع ہو گیا ہے،سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مرحلہ نہایت اہم ہے کیونکہ اس کے نتائج آگے آنے والے مرحلوں کی سمت طے کریں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکمراں جماعت اپنی برتری برقرار رکھ پاتی ہے یا اپوزیشن کوئی بڑا اپ سیٹ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، فی الحال سب کی نظریں ووٹنگ اور اس کے بعد آنے والے نتائج پر جمی ہوئی ہیں جو ریاست کی آئندہ سیاست کا رخ متعین کریں گے۔



