فورسز پر تشدد کا دعویٰ، دو تہائی جیت کا اعلان!
کولکاتہ: مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران سیاسی درجہ حرارت اس وقت مزید بڑھ گیا جب وزیر اعلیٰ ممتابنرجی نے ووٹ ڈالنے کے فوراً بعد مرکزی فورسز پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔ بھوانی پور کے مترا انسٹی ٹیوشن میں ووٹ ڈالنے پہنچیں ممتا بنرجی نے نہ صرف وکٹری کا نشان دکھایا بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی جیت کا اعلان بھی کر دیا۔ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکزی فورسز کل رات سے مسلسل ظلم کر رہی ہیں، یہ سیدھا سیدھا عدالت کی توہین ہے۔ میرے پڑوس میں لڑکیوں کو مارا گیا، لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے اور وہ اپنی مرضی سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فورسز کا کام عوام کو خوفزدہ کرنا ہے؟ممتا نے الزام لگایا کہ صرف کولکاتا ہی نہیں بلکہ آرام باغ، خانکول اور گوگھاٹ جیسے علاقوں میں بھی مرکزی فورسز کی جانب سے زیادتیوں کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں لوگ ووٹ دینا چاہتے ہیں، وہاں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے، اور جہاں نہیں چاہتے وہاں زبردستی ماحول بنایا جا رہا ہے۔ یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔سیاسی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں دو تہائی اکثریت ملنے جا رہی ہے، ترنمول کانگریس واضح طور پر جیت رہی ہے۔ان کے لہجے میں مکمل یقین جھلک رہا تھا، اور انہوں نے اپنے کارکنوں کو بھی حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگ مر سکتے ہیں، لیکن کسی کے سامنے جھکیں گے نہیں۔اس سے قبل صبح کے وقت ممتا بنرجی نے بھوانی پور کے مختلف بوتھوں کا دورہ کیا، جہاں وہ چیتلہ اور چکربیریا علاقوں میں بوتھ ٹو بوتھ گئیں۔ چکربیریا میں ایک پولنگ بوتھ پر وہ کافی دیر تک موجود رہیں اور وہاں سے بھی مرکزی فورسز کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ میں ابھی بھی اقتدار میں ہوں، اور سب کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ممتا بنرجی نے ایک مخصوص واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے مرکزی فورسز ایک مقامی کونسلر عاصم باسو کے گھر پہنچیں، جہاں اس وقت ان کی بیوی اور بچہ اکیلے موجود تھے۔ ممتا کے مطابق، فورسز نے گھر میں داخل ہو کر دھمکیاں دیں کہ الیکشن کے دن کوئی سرگرمی نہ کی جائے، یہاں تک کہ موبائل فون تک ضبط کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی حالات ہیں تو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کیسے ممکن ہیں؟واضح رہے کہ منگل کی رات سے کولکاتا اور جنوبی 24 پرگنہ کے کئی علاقوں میں پولیس اور مرکزی فورسز کی جانب سے سرچ آپریشنز کی اطلاع سامنے آئی تھیں، جس کے بعد سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بنگال کے انتخابات میں ووٹنگ کے ساتھ ساتھ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی اپنے عروج پر ہے۔ ایک طرف حکمران جماعت اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہے، تو دوسری طرف انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں، جس نے اس مرحلے کو نہایت حساس اور اہم بنا دیا ہے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593438