واشنگٹن نے ایران کے انتخاب کو NPT کی “توہین” قرار دے دیا
ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے والاامریکہ دوسروں کو سبق نہ دے:تہران
نیویارک/تہران ،29؍اپریل(ایجنسی):ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی پروگرام کو لے کر جنگ جیسی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ اسی دوران ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔ ایران کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ نیویارک میں اقوام متحدہ میں جاری NPT کی 11ویں ریویو کانفرنس میں لیا گیا۔ یہ کانفرنس 5 سال میں ایک بار ہوتی ہے۔ کانفرنس کے صدر اور ویتنام کے سفیر دو ہنگ ویت نے بتایا کہ ایران کا نام ‘غیر وابستہ ممالک کے گروپ‘(NAM) کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ اس گروپ میں بھارت سمیت 100 سے زیادہ ممالک شامل ہیں۔امریکہ کے ایک اہلکار کرسٹوفر ییو نے اسے NPT کے لیے توہین قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران طویل عرصے سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے میں اسے اس تنظیم کے اہم عہدے پر فائز کرنا درست نہیں ہے۔ وہیں ایران نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ ایران نے کہا کہ امریکہ، جو خود ایٹمی ہتھیار استعمال کر چکا ہے اور مسلسل اپنے ہتھیاروں میں اضافہ کر رہا ہے، اسے دوسروں کو سبق سکھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ایٹمی عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (NPT) 1970 میں نافذ ہوا تھا۔ اسے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا سب سے اہم نظام مانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کا ایک سادہ سا سودا ہے: جن ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں، وہ انہیں نہیں بنائیں گے اور جن کے پاس ہیں، وہ آہستہ آہستہ انہیں ختم کریں گے۔اس کے بدلے تمام ممالک کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق ملتا ہے۔ یہ معاہدہ 1968 میں شروع ہوا اور 1970 سے نافذ ہوا۔ آج اقوام متحدہ کے 195 میں سے 191 ممالک اس معاہدے کا حصہ ہیں۔ بھارت، پاکستان، اسرائیل اور جنوبی سوڈان اس میں شامل نہیں ہیں۔پانچ ممالک کو باضابطہ ایٹمی طاقت مانا گیا ہے: امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس۔ باقی تمام ممالک کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ معاہدہ تین ستونوں پر ٹکا ہے: ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ نہ ہو، ہتھیاروں میں کمی کی جائے اور ایٹمی توانائی کا پرامن استعمال ہو۔ان تمام امور کی نگرانی ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (IAEA) کرتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ معاہدے کا ‘پرامن استعمال‘والا حصہ تو ٹھیک چل رہا ہے لیکن ‘ہتھیاروں میں کمی‘والا حصہ تقریباً ناکام مانا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے ممالک اپنے ایٹمی ہتھیار گھٹانے کے بجائے انہیں مزید جدید بنا رہے ہیں، خاص طور پر چین۔ ساتھ ہی کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ قوانین تمام ممالک پر برابر لاگو نہیں ہوتے، جس سے چھوٹے ممالک میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔وہیں چار ممالک (بھارت، پاکستان، اسرائیل اور جنوبی سوڈان) شروع سے ہی اس معاہدے کا حصہ نہیں بنے۔ شمالی کوریا پہلے اس میں شامل تھا، لیکن 2003 میں باہر نکل گیا اور بعد میں ایٹمی تجربات بھی کیے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسرائیل NPT میں نہیں ہے، پھر بھی اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور وہ ایک ایسے ملک (ایران) پر حملہ کر رہا ہے جو NPT کا ممبر ہے۔بھارت اور پاکستان نے 1998 میں ایٹمی تجربات کیے تھے۔ اسرائیل کے پاس بھی ایٹمی ہتھیار مانے جاتے ہیں، لیکن وہ کھل کر اس کا اعتراف نہیں کرتا اور NPT میں بھی شامل نہیں ہے۔ایران نے 1968 میں ہی اس معاہدے پر دستخط کر دیے تھے، لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اس کا ایٹمی پروگرام تنازعات میں آگیا۔ اگرچہ ایران اب بھی NPT کا حصہ ہے، لیکن اس پر مسلسل الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ اس کے قوانین کی روح کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ایران نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے، جبکہ عام توانائی کے لیے صرف 3 سے 5 فیصد افزودگی ہی کافی ہوتی ہے۔ایران ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا، لیکن پہلے کی رپورٹس میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اشارے دیے تھے کہ 2003 تک اس نے ہتھیاروں کے پروگرام پر کام کیا تھا۔ اسی وجہ سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت موقف اپنایا اور حالات جنگ تک پہنچ گئے۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593426