انڈیا اتحاد کی میٹنگ کے بعد کانگریس صدر کھڑگے کا میڈیا سے خطاب
نئی دہلی، 15 اپریل:۔ (ایجنسی) مودی حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں حد بندی اور خواتین ریزرویشن بل سے متعلق کچھ اہم پیش قدمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس معاملے میں آج انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر انتہائی اہم میٹنگ کی۔ میٹنگ کی کچھ تصویریں شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر بے حد خامیوں سے بھری اور غیر آئینی حد بندی کے عمل کو نافذ کرنے والی ہے۔ آج اس ایشو پر اہم میٹنگ ہوئی جس میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران موجود رہے۔‘‘ اس میٹنگ کے بعد کانگریس صدر کھڑگے نے میڈیا سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’ہم سبھی خواتین ریزرویشن بل کے حق میں ہیں، لیکن جس طریقے سے اسے پیش کیا گیا ہے وہ اعتراض کے قابل ہے اور ہم اس معاملے میں سنجیدہ فکر رکھتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس قدم میں سیاسی محرکات موجود ہیں۔ مودی حکومت اس طرح اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنانے اور دبانے کے لیے کام کر رہی ہے۔‘‘
ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے مسلسل خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے قبل میں منظور شدہ ترمیم کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’حد بندی (ڈیلمیٹیشن) کے معاملے میں حکومت کچھ سازش کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اس لیے تمام اپوزیشن پارٹیاں متحدہ موقف اختیار کریں گی اور پارلیمنٹ میں اس کے خلاف جدوجہد کریں گی۔‘‘ وہ اس بات کو دہراتے بھی ہیں کہ ’’میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم خواتین ریزرویشن بل کے خلاف نہیں ہیں۔‘‘ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سبھی اپوزیشن پارٹیاں چاہتی ہیں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دیا جائے، اسے موجودہ لوک سبھا سیٹوں (543) کی بنیاد پر نافذ کیا جائے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’’خواتین ریزرویشن کو 2029 کے لوک سبھا انتخاب سے ہی نافذ کیا جائے۔ سبھی اپوزیشن پارٹیاں حد بندی کے التزامات کے بالکل خلاف ہیں۔ ہم لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی بحث میں حصہ لیں گے اور اس کی مخالفت کریں گے۔‘‘ جئے رام رمیش نے حد بندی کے لیے استعمال طریقۂ کار کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’وزیر داخلہ اور حکومت کے وزراء نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں 50 فیصد سیٹیں بڑھیں گی اور یہ یکساں تناسب کے طور پر سبھی ریاستوں کے لیے نافذ ہوگا۔ لیکن یہ بات اس بل میں شامل نہیں ہے۔ اس بل کے آنے سے جنوبی ہندوستان کی ریاستوں، شمال مغربی ہندوستان اور شمال مشرق کی ریاستوں کا تناسب گھٹے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بار بار یکساں تناسب کی بات کی جا رہی ہے، لیکن وہ حد بندی کے التزامات میں کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ حد بندی کمیشن کی بات بھی کہی گئی ہے۔ حالانکہ اس کمیشن نے جموں و کشمیر اور آسام میں جیسا کام کیا ہے، اس سے صاف ہے کہ حد بندی کمیشن بی جے پی کا اسلحہ ہے، جس سے وہ اکثریت حاصل کریں گے۔‘‘



