مشترکہ جدوجہد: منشیات کے خاتمے کے لیے عوامی اور حکومتی اتحاد ضروری
نئی دہلی 26 جون (یو این آئی) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو یہاں نارکو کوآرڈینیشن سینٹر کی دسویں اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور “منشیات کنٹرول پر وژن دستاویز (2026-2029)” اور “این سی بی کی سالانہ رپورٹ-2025” کا اجراء کیا اور جموں و گوہاٹی میں نیشنل ریکارڈ بیورو کے علاقائی دفاتر کا ای-افتتاح کیا۔
مسٹر شاہ نے ‘آن لائن ڈرگز ڈسپوزل فورٹ نائٹ کمپین کا آغاز بھی کیا جس میں 6,000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 2,09,500 کلو گرام نشہ آوراشیا تلف کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، “ملک نارکوٹکس کے خلاف لڑائی کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آنے والے تین سال یہ طے کریں گے کہ نشہ ہم پر فتح حاصل کرے گا یا ہم نشے پر فتح حاصل کریں گے۔ ملک کے آنے والے 100 سال کے مستقبل کے لیے یہ لڑائی ہمیں مضبوطی کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے جیتنی چاہیے۔ یہ لڑائی کوئی ایک محکمہ، ریاست، حکومت یا فرد نہیں لڑ سکتا بلکہ اس کے لیے تمام ریاستوں اور ان کے متعلقہ محکموں کو ایک ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔”مہم میں سب کی شرکت کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “اس لڑائی میں ہمیں عوام کو ترغیب دینے والے سنتوں، ملک کا مستقبل طے کرنے والے نوجوانوں اور ہماری ماتر شکتی (خواتین) کو بھی جوڑنا ہوگا، تبھی اس لڑائی میں ہم پوری طرح کامیاب ہو سکیں گے۔ منشیات کا مسئلہ صرف امن و امان اور عوامی صحت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی اندرونی سلامتی، سماجی استحکام، اقتصادی مفادات کے تحفظ اور ہماری نوجوان نسل اور اس کے ذریعے ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر مکمل فتح حاصل کرنا ہندستان کی تمام ریاستوں کا ایک اجتماعی ہدف ہونا چاہیے۔” وزیر داخلہ نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، نارکو ٹیرر فنانس اور سرحد پار کے دہشت گرد نیٹ ورکس کی فنانسنگ کے ساتھ یہ مسئلہ ایک ابھرتا ہوا نارکو دہشت گردی کا نظام بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اندرونی سلامتی، معیشت اور نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہمیں اس پر مکمل فتح حاصل کرنی ہی ہوگی۔انہوں نے کہا، “ہم ڈیتھ ٹرائینگل اور ڈیتھ کریسنٹ کے درمیان ہیں اور ڈرون پر مبنی ڈراپس، سمندری راستوں سے کنٹینرائزڈ کارگو، ڈارک نیٹ، کرپٹو پیمنٹ، آرڈر ٹو ڈیلیوری ماڈل، پارسل کا استعمال وغیرہ جیسے طریقوں سے منشیات کا کاروبار کرنے والوں نے ہماری لڑائی کو اور زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ نارکو مجرم ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر نیٹ ورک پر مبنی بن چکے ہیں اور ملٹی ڈومین جرائم کی شکل میں آج ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ اس مشکل لڑائی کے تئیں ہمارا ردعمل بھی اجتماعی اور منظم، روڈ میپ پر مبنی اور جدید اور انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہمارا نقطہ نظر ٹیکنالوجی پر مبنی ہونا چاہیے اور ہمیں سخت موقف کے ساتھ نیٹ ورک سینٹرک لڑائی لڑنی ہوگی تبھی ہم اس مسئلے کے خلاف فتح حاصل کر سکتے ہیں۔” مسٹر شاہ نے کہا کہ 2004 سے 2014 تک 40000 کروڑ روپے کی مالیت کی 26 لاکھ کلو گرام سنتھیٹک ڈرگز ضبط کی گئی تھیں جبکہ 2014 سے 2026 تک 1 لاکھ 84 ہزار کروڑ روپے مالیت کی ایک کروڑ 18 لاکھ کلو گرام منشیات ضبط کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی مہم کامیابی کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا، “اگر ہم اس لڑائی کو مل کر اور متحد ہو کر لڑتے ہیں تو یقیناً فتح ہماری ہوگی۔ تین سال کے اندر ہم ہندستان میں نشہ آوراشیا کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی سمت میں بہت آگے نکل جائیں گے۔ ان تین سال میں ہم سب ایک ہدف طے کر کے اجتماعی کوششوں سے محنت کریں، وقت کی حد اور مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ ہدف مقرر کریں تو ہماری جیت یقینی ہے۔









Users Today : 350
Users Yesterday : 512
Users Last 7 days : 3009
Users Last 30 days : 6715
Users This Month : 6701
Users This Year : 6715
Total Users : 4568258