ہومNationalلوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز

لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

پارلیمنٹ میں آئینی ترمیمی بل لانے کا فیصلہ

مودی حکومت کی جانب سے 16 اپریل سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب

نئی دہلی، 14 اپریل:۔ مرکزی حکومت نے ملک کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی لانے کی تیاری کر لی ہے۔ بی جے پی کی زیر قیادت نریندر مودی حکومت نے لوک سبھا کی نشستوں کی موجودہ تعداد 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کے لیے ایک اہم آئینی ترمیمی بل لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی توسیعی بجٹ اجلاس 16 اپریل سے طلب کیا گیا ہے، جس میں ’آئین (ایک سو اکتیسواں ترمیمی) بل 2026‘ پیش کیا جائے گا۔ اس بل کے تحت لوک سبھا کی نشستوں میں غیر معمولی اضافے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ آبادی کے تناسب سے عوامی نمائندگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

آئینی دفعات میں ترمیم کی تجویز
موصولہ معلومات کے مطابق، حکومت 16 سے 18 اپریل کے درمیان اس اہم بل کو ایوان میں بحث کے لیے پیش کرے گی۔ بل کے مسودے میں آئین کے آرٹیکل 81 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت لوک سبھا کی کل نشستوں کی زیادہ سے زیادہ حد کو بڑھا کر 815 ریاستی نمائندوں اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں تک کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آرٹیکل 82 میں بھی ترمیم کی جائے گی تاکہ حالیہ مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کا راستہ صاف ہو سکے۔ یہ پوری مشق ڈیلیمیٹیشن کمیشن کی نگرانی میں انجام دی جائے گی۔
اپوزیشن کی جانب سے شدید تحفظات
حکومت کے اس اقدام پر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس پارٹی اور جنوبی ریاستوں کی اہم جماعت ڈی ایم کے (DMK) نے اس بل کو متنازع قرار دیتے ہوئے اس کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی سے وفاقی ڈھانچے اور ریاستوں کی نمائندگی کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ سیاسی مبصر یوگیندر یادو نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بل میں اس بات کی کوئی ٹھوس ضمانت نہیں دی گئی کہ ریاستوں کے درمیان نشستوں کا موجودہ تناسب برقرار رہے گا، جس سے بعض ریاستوں کو سیاسی طور پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
قانون بننے کا عمل اور مستقبل
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نشستوں میں اضافے سے انتخابی حلقوں کا رقبہ کم ہوگا جس سے عوامی مسائل کو بہتر طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم، اس بل کو قانون کی شکل اختیار کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے بھاری اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہوگا، جس کے بعد اسے صدرِ جمہوریہ کی توثیق کے لیے بھیجا جائے گا۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پارلیمانی جمہوریت کے حوالے سے سب سے بڑی تبدیلی ثابت ہوگی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.