اندور، 29 مارچ:۔ (ایجنسی) کمال مولیٰ مسجد اور بھوج شالہ مندر تنازع پر 2 اپریل کی شنوائی سے قبل سنیچر کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے دو ججوں نےدھار میں کمال مولا مسجد کمپلیکس کا معائنہ کیا۔ ہندو فریق اس مقام کو وگدیوی مندر (سروسوتی) کا مندر مانتا ہے۔ جج وجے کمار شُکلا اور جج الوک اوستھی دوپہر تقریباً ایک بج کر 50 منٹ پر کمپلیکس پہنچے اور تقریباً 3 بجے وہاں سے لوٹے۔ معائنہ کے دوران ان کے ساتھ کلکٹر پریانک مشرا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ ماینک اوستھی سمیت ضلع انتظامیہ کے سینئر افسران موجود تھے۔ سخت سیکوریٹی کے انتظامات کے درمیان، ججوں نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماتحت اس کمپلیکس کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور اس کی تعمیرات اور تاریخ سے متعلق معلومات حاصل کیں۔انہوں نے کمپلیکس کے ستونوں اور ’’شیلالیکھوں‘‘کا بھی جائزہ لیا۔ درخواست گزار آشیش گوئل نے بتایا کہ عدالت نے۱۶؍ مارچ کی سماعت کے دوران ہی ججوں کے مقام معائنہ کی اطلاع دی تھی۔



