بیوی کا حق خلع کسی کی مرضی کا محتاج نہیں؛ شریعہ کونسل سے انصاف کی عدم فراہمی کے بعد فیملی کورٹ کا حکم
احمد آباد، 06 مئی:۔ (ایجنسی) گجرات میں احمد آباد کی فیملی کورٹ نے مسلم خواتین کے حقوق کو مستحکم کرنے کی سمت میں ایک سنگ میل فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک مسلمان بیوی اپنے شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی 'خلع ' کے ذریعے شادی ختم کر سکتی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دے کر کہا کہ خلع کے لیے عدالت سے رجوع کرنا قانونی طور پر لازمی ہے، جبکہ شریعہ کونسل جیسے غیر عدالتی اداروں کے پاس نکاح فسخ کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔
عدالتی فیصلہ اور قانونی نظیر
عدالت نے اسلامی قانون اور بھارتی قوانین کی روشنی میں بیوی کے حقِ خلع کو تسلیم کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جس طرح شوہر کو طلاق کا حق حاصل ہے، اسی طرح بیوی کو بھی ناگوار ازدواجی رشتے سے نکلنے کا حق حاصل ہے۔ اس سے قبل دہلی اور کیرالہ ہائی کورٹ بھی اس طرح کے فیصلے سنا چکے ہیں، تاہم احمد آباد فیملی کورٹ کا یہ فیصلہ گجرات میں مسلم خواتین کے لیے ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہوگا۔ عدالت نے درخواست گزار خاتون کی گواہی کو معتبر تسلیم کرتے ہوئے نکاح کو کالعدم قرار دے دیا۔
کیس کے پس منظر اور سنگین الزامات
یہ معاملہ ایک سابق اسسٹنٹ پروفیسر خاتون کا ہے جس کی شادی 2019 میں احمد آباد کے ایک شخص سے ہوئی تھی۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ شادی کے بعد سے ہی اسے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شوہر اس کے کردار پر شک کرتا تھا اور حمل کے دوران بھی اس پر حملہ کیا گیا۔ خاتون نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ شوہر گوگل لائیو لوکیشن کے ذریعے اس کی جاسوسی کرتا تھا اور اس نے شادی کے وقت اپنے مجرمانہ ماضی کو چھپایا تھا۔ ان تلخ حالات کے باوجود خاتون نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کینسر کے دوران اپنے شوہر کی تیمارداری کی اور اس کے صحت یاب ہونے کے بعد علیحدگی کا قدم اٹھایا۔
بچے کی تحویل اور جہیز کی واپسی کا حکم
خاتون نے مارچ 2024 میں ‘خلع نامہ ‘ بھیج کر جہیز کی رقم واپس کر دی تھی، لیکن شوہر نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت میں درخواست گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ اندراودن پانڈیا نے ‘مسلم میرج ڈسولیشن ایکٹ 1939’ کا حوالہ دیتے ہوئے ثابت کیا کہ بیوی کو یہ حق حاصل ہے۔ عدالت نے تمام شواہد کی جانچ کے بعد جوڑے کے نابالغ بیٹے کی تحویل ماں کے حوالے کر دی اور شوہر کو حکم دیا کہ وہ بیوی کے زیورات اور جہیز کا تمام سامان فوری طور پر واپس کرے۔
عدالتی مشاہدہ: ٹوٹے ہوئے اعتماد کی بحالی ناممکن
فیملی کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ جب بیوی شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا مطالبہ کرتی ہے، تو یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ ازدواجی رشتے میں اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور دونوں کا ساتھ رہنا ممکن نہیں رہا۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ان خواتین کو بڑی راحت ملے گی جو برسوں سے عدالتوں یا شریعہ کونسلوں کے چکر کاٹ رہی ہیں اور شوہر کی ضد کی وجہ سے آزاد نہیں ہو پا رہی تھیں۔
