ہومNationalبھارت کے پڑوس میں ایک نیا ملک بنانے کی کوششیں تیز

بھارت کے پڑوس میں ایک نیا ملک بنانے کی کوششیں تیز

میانمار میں باغیوں نے 17 میں سے 14 علاقوں پر قبضہ کر کے جنٹا فوج کے 40 اہلکاروں کو مار گرایا

نئی دہلی، 5 جون:۔ (ایجنسی) ہندوستان کے پڑوسی ملک میانمار سے ایک سنسنی خیز اور بڑی سیاسی خبر سامنے آ رہی ہے، جہاں ریاست رخائن کی آزادی کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ میانمار کی فوجی حکومت (جنٹا) کے خلاف برسرپیکار باغی گروپ ‘اراکان آرمی ‘ نے رخائن کو الگ ملک بنانے کی جدوجہد انتہائی تیز کر دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اراکان کے جنگجوؤں نے دارالحکومت ستوے کا چاروں طرف سے محاصرہ کر لیا ہے اور اس معرکے کو آخری بڑی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر دارالحکومت ستوے پر اراکان آرمی کا مکمل کنٹرول قائم ہو جاتا ہے، تو باغی گروپ رخائن کو ایک خود مختار اور الگ ملک قرار دے دے گا۔ مقامی اخبار ’دی اراوادی‘ کے مطابق، اراکان آرمی پہلے ہی صوبے کے 17 میں سے 14 علاقوں پر اپنا تسلط جما چکی ہے اور اب باقی ماندہ 3 علاقوں پر قبضے کی حتمی تیاری کی جا رہی ہے۔

اراکان آرمی کی تشکیل اور روہنگیا مسلمانوں پر مظالم
واضح رہے کہ سال 2009 میں اراکان نسل کے بدھ مت پیروکاروں نے رخائن کو زیادہ انتظامی اختیارات دینے کے مطالبے کے ساتھ ایک تحریک شروع کی تھی، اور اسی سال ‘اراکان آرمی ‘ کی تشکیل عمل میں آئی۔ بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد کے قریب واقع اس صوبے میں سال 2016 کے بعد بغاوت نے شدید ترین شکل اختیار کر لی۔ اراکان آرمی سے وابستہ جنگجوؤں نے ابتدا میں یہاں کی روہنگیا برادری کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل عام اور تشدد کی مہم شروع کی، جس کے باعث اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کو وہاں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسی دوران میانمار میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر فوج نے اقتدار سنبھال لیا، جس کے بعد اراکان آرمی نے فوجی حکومت کے خلاف اپنی مسلح بغاوت کو مزید تیز کر دیا۔
کمانڈر ان چیف کا سال 2027 تک مکمل آزادی کا ہدف
اراکان آرمی کے کمانڈر ان چیف تُن میات نائنگ نے سال 2027 تک ’مکمل طور پر آزاد اراکان‘ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ نائنگ کا دعویٰ ہے کہ تب تک ان کی فوج دفاعی اور عسکری لحاظ سے اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ میانمار کی باقاعدہ فوج کو یہ پورا خطہ چھوڑ کر بھاگنا پڑے گا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اراکان آرمی نے ستوے کے اطراف میں سرکاری فوج کے ٹینکروں اور رسد کی سپلائی کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، جس سے سرکاری فوج محصور ہو کر رہ گئی ہے۔
جدید ہتھیاروں کی آمد سے جنٹا فوج دفاعی پوزیشن پر مجبور
رپورٹ کے مطابق، 29 مئی سے 1 جون کے درمیان ستوے کے قریبی علاقوں میں میانمار کی جنٹا فوج اور اراکان آرمی کے درمیان انتہائی خونریز جھڑپیں ہوئیں، جن میں سرکاری فوج کے 40 اہلکار مارے گئے۔ ابتدا میں میانمار کی فوج کے فضائی حملوں اور ہیلی کاپٹروں کے سامنے اراکان آرمی کے جنگجو کمزور دکھائی دے رہے تھے، لیکن حالیہ مہینوں میں باغیوں نے جدید ڈرونز اور کندھے پر رکھ کر داغے جانے والے اینٹی ائیر کرافٹ میزائل حاصل کر لیے ہیں۔ ان جدید ہتھیاروں کی مدد سے اب انہوں نے میانمار کی فوج کے فضائی حملوں کا راستہ روک دیا ہے، جس کے بعد جنٹا فوج شدید دباؤ میں ہے اور رخائن کی آزادی کے امکانات یقینی نظر آ رہے ہیں۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات