نئی دہلی، 21 جون:۔ (ایجنسی) دہلی حکومت نے اپنی نئی الیکٹرک گاڑی (ای وی) پالیسی2؍ اعشاریہ صفر کے تحت اپریل 2028سے اندرونی احتراق انجن (آئی سی ای) والی دو پہیوں کی نئی رجسٹریشن پر مجوزہ پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ اسے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ8؍ مئی کو الیکٹریفیکیشن کے اس لازمی حکم کو مینوفیکچررز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے، جن کا کہنا تھا کہ آبادی کے ایک بڑے طبقے کے لیے جو موٹرسائیکل خریدتا ہے، ذاتی نقل و حرکت کے متبادل موجود نہیں ہیں۔جبکہ کئی لوگوں نے یہ بھی دلیل دی کہ ہندوستان کی بیٹری اور نایاب ارضی اجزاء کی سپلائی چین، جو ابھی تک درآمدات پر منحصر ہے اور بڑی حد تک چین پر انحصار کرتی ہے، اس بڑے پیمانے پر منتقلی کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔ساتھ ہی صنعت کی اعلیٰ تنظیموں بشمول سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم) نے بھی حکومت کو خط لکھا تھا کہ ’’آئی سی ای گاڑیوں پر پابندی کا حکم نقصان دہ ہوگا، جو ممکنہ طور پر صارفین کی بہبود اور وسیع تر معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ دہلی جو گزشتہ دہائی سے فضائی آلودگی سے دوچار ہے، اور اس مسئلے کے تدارک کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ چونکہ فضائی آلودگی میں گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا حکومت کا الیکٹرک موٹر گاڑی کو فروغ دینے کا فیصلہ قابل تحسین ہو سکتا تھا، تاہم اس کے نفاذ سے قبل تمام متعلقین ، جن میں صارف، بائیک اور اسکوٹر بنانے والی کمپنیاں شامل ہیں، کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ لیکن حکومت نے تمام مخالفت کی پرواہ کئے بغیر اپنے طور پر پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل کے رجسٹریشن کے خاتمے کا اعلان کرکے، چوطرفہ تنقیدیں مول لے لی ہیں۔










Users Today : 17
Users Yesterday : 385
Users Last 7 days : 2440
Users Last 30 days : 4629
Users This Month : 4615
Users This Year : 4629
Total Users : 4566172