پنچایتی راج میں راجیو گاندھی نے دی بنیاد؛ مردم شماری کے بغیر حد بندی جمہوری اقدار کے خلاف قرار
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 28 اپریل:۔ رانچی میں واقع کانگریس ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر یشسونی سہائے نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کو سیاسی حقوق دلانے کی حقیقی پہل کانگریس نے ہی کی تھی۔ یشسونی سہائے نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی دور اندیشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہی پنچایت کی سطح پر خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دے کر اس تبدیلی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس تاریخی فیصلے کی بدولت آج ملک بھر میں لاکھوں خواتین قیادت کے عہدوں پر فائز ہو کر معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ مرکزی حکومت خواتین ریزرویشن کے نام پر صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2023 میں خواتین ریزرویشن بل متفقہ طور پر منظور ہونے کے باوجود اسے اب تک نافذ نہ کرنا حکومت کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت واقعی خواتین کو بااختیار بنانا چاہتی ہے تو اس قانون پر فوری عمل درآمد یقینی بنائے۔ حد بندی (Delimitation) کے مسئلے پر پارٹی کا موقف واضح کرتے ہوئے یشسونی سہائے نے کہا کہ کانگریس کو اس عمل سے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن یہ مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے۔ نئی مردم شماری کرائے بغیر حد بندی کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے، کیونکہ اس سے آبادی کے حقیقی اعداد و شمار نظر انداز ہو جائیں گے اور نمائندگی میں عدم توازن پیدا ہونے کا خدشہ رہے گا۔ انہوں نے پسماندہ طبقات (OBC) کی خواتین کے حقوق کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف ریزرویشن کا اعلان کافی نہیں ہے، بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ او بی سی اور دیگر محروم طبقات کی خواتین کو اس میں مناسب حصہ ملے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین ریزرویشن محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا ذریعہ ہے، جسے ایمانداری سے نافذ کرنا ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔








Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593334