PESA سمپوزیم ورکشاپ سے وزیر وں کا خطاب
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،15؍مئی: پی ای ایس اے سیمینار ورکشاپ کا انعقاد محکمہ پنچایتی راج کے ذریعہ کیا گیا ۔ اس کا مقصد پی ای ایس اے ایکٹ کے تیار کردہ مسودے پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ وزیر زراعت شلپی نیہا ترکی نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ پنچایتی راج کے اس اقدام کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیسا ایکٹ کے حوالے سے پیچیدگیوں کو دور کرنا آسان نہیں ہے۔ لیکن حکومت نے مثبت رویہ کے ساتھ تنقید کو دعوت دی ہے۔ آج جب ریاست میں پی ای ایس اے ایکٹ پر سنجیدہ بحث چل رہی ہے، سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے اس بیان کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک ترقی کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی ترقی کرتا رہے گا۔ لیکن اگر روایت، تہذیب اور ثقافت کو داغدار کیا جائے تو اس ترقی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قبائلی معاشرے کی ترقی کے لیے بجٹ کا انتظام ہے لیکن سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس رقم کا صحیح استعمال کیسے کیا جائے۔ اس ترقی میں قبائلی اور مقامی لوگوں کی روایات اور ثقافت کا تحفظ بھی شامل ہونا چاہیے۔ وزیر شلپی نیہا ترکی نے کہا کہ آج دلیپ سنگھ بھوریا سمیتی کی رپورٹ کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ رپورٹ ریاستی حکومت اور گرام سبھا کے درمیان بہتر تال میل کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔ یہ بہت ضروری ہے۔ یہ معلوم کرنا ہوگا کہ کس کے کیا حقوق ہیں۔پانچویں شیڈول والی ریاستوں میں قبائلی سماج کے تحفظ کے لیے پہلے سے قوانین موجود ہیں۔ اس قانون میں قبائلیوں اور مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ قبائلی معاشرے میں اجتماعیت کا احساس ہے۔ آج اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ پنچایتی راج نے ایک اچھی پہل کی ہے اور اس اقدام کا نتیجہ بھی بہتر ہوگا۔اس موقع پر وزیردیپیکا سنگھ وزیر رام داس سورینکے علاوہ دیگر لوگ موجود تھے۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4592790