انکاؤنٹر میں 15 لاکھ کے انعامی نکسلی سمیت چار ہلاک
جدید بھارت نیوز سروس
ہزاری باغ، 17 اپریل:۔ ہزاری باغ ضلع کے کیری داری تھانہ علاقے میں واقع کھپیا کے جنگلات میں جمعہ کے روز سیکورٹی فورسز اور ماؤنوازوں کے درمیان ہونے والے ایک شدید مقابلے میں چار سخت گیر عسکریت پسند مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے نکسلیوں میں 15 لاکھ روپے کا انعامی ریجنل کمیٹی ممبر سہدیو مہتو بھی شامل ہے۔ اس کارروائی کو پارس ناتھ، لوگوجھومرا اور سنگھری گھاٹی کے علاقوں میں سرگرم ماؤنواز نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ پارس ناتھ اور لوگوجھومرا کے سرحدی علاقوں میں ماؤنوازوں کا ایک دستہ کسی بڑی واردات کی منصوبہ بندی کیلئے جمع ہوا ہے۔ اس اطلاع پر رانچی اور ہزاری باغ پولیس کے تعاون سے ضلع پولیس اور کوبرا بٹالین کی ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے کھپیا جنگل میں محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کیا۔ سیکورٹی فورسز کو قریب آتے دیکھ کر ماؤنوازوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں جوانوں نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس خونریز مڈبھیڑ کے بعد نکسلی پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔انکاؤنٹر کے بعد جب علاقے میں سرچ آپریشن چلایا گیا تو وہاں سے چار لاشیں اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں 15 لاکھ کا انعامی ریجنل کمیٹی ممبر سہدیو مہتو، 10 لاکھ کا انعامی زونل کمیٹی ممبر رنجیت گنجھو، گڈچرولی کی رہائشی زونل کمیٹی ممبر نتاشا اور چترا کا رہائشی ایک لاکھ کا انعامی نکسلی بدھن کرمالی شامل ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک AK-47، کولٹ اے آر-15 رائفل، انساش رائفل اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء برآمد کی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کامیاب کارروائی کے بعد ہزاری باغ اور چترا کے سرحدی علاقوں میں نکسلی سرگرمیوں پر فیصلہ کن اثر پڑے گا۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے ماؤنوازوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف مقامی دیہاتی خوف کے سائے میں جینے پر مجبور تھے بلکہ ترقیاتی کام بھی بری طرح متاثر ہو رہے تھے۔ اعلیٰ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اس کارروائی کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اور رکے ہوئے ترقیاتی منصوبے دوبارہ شروع ہو سکیں گے۔
