298 ارکان نے حمایت جبکہ 230 نے مخالفت میں ڈالاووٹ؛ اسپیکر نے بل پر مزید کارروائی سے انکار کر دیا
مودی حکومت کے 12 سالہ دور کا پہلا بل جو ایوان میں گر گیا؛ راہل گاندھی نے اسے جمہوریت کی جیت قرار دیا
نئی دہلی، 17 اپریل:۔ (ایجنسی) مودی حکومت کے 12 سالہ دورِ اقتدار میں آج اس وقت ایک تاریخی موڑ آیا جب حکومت خواتین کے ریزرویشن سے متعلق اہم ‘131 ویں آئینی ترمیمی بل ‘ کو لوک سبھا میں پاس کروانے میں ناکام رہی۔ 21 گھنٹے کی طویل اور گرما گرم بحث کے بعد جب ووٹنگ ہوئی تو حکومت مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکی، جس کے نتیجے میں یہ بل ایوان میں گر گیا۔ اس بل میں لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی، جسے اپوزیشن نے ‘حد بندی ‘ کی ایک سازش قرار دیا تھا۔
ووٹنگ کے اعداد و شمار اور تکنیکی ناکامی
لوک سبھا میں ووٹنگ کے دوران مجموعی طور پر 528 ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ بل کی حمایت میں 298 ووٹ پڑے جبکہ 230 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ آئینی ترمیم کیلئے ایوان میں موجود ارکان کی دو تہائی اکثریت (352 ووٹ) درکار تھی، لیکن حکومت اس ہدف سے 54 ووٹ پیچھے رہ گئی۔ اسپیکر اوم برلا نے باقاعدہ اعلان کیا کہ بل مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے آگے کی کارروائی کے لیے اہل نہیں رہا۔ اس ناکامی کے بعد حکومت نے ‘حد بندی ترمیمی بل ‘ اور ‘مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق ترمیمی بل ‘ کو بھی واپس لے لیا۔
حکومت کا موقف اور اپوزیشن پر الزامات
بل گرنے سے قبل وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک گھنٹہ طویل جذباتی تقریر کی، جس میں انہوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین دیکھ رہی ہیں کہ ان کے حقوق کی راہ میں کون رکاوٹ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ناکامی کی تمام تر ذمہ داری اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے اور عوام انتخابات میں اس کا حساب مانگیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ارکانِ پارلیمنٹ سے اپنی ’ضمیر کی آواز‘ سننے کی اپیل کی تھی، لیکن اپوزیشن متحد رہی اور حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
اپوزیشن کا ردِعمل اور آئین کی جیت کا دعویٰ
بل کے گرنے کو اپوزیشن نے جمہوریت کی بڑی جیت قرار دیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ “ہم نے آئین پر ہونے والے حملے کو ناکام بنا دیا ہے، یہ بل خواتین کے نام پر سیاسی ڈھانچے کو بدلنے کی ایک کوشش تھی۔” پرینکا گاندھی اور ایم کے اسٹالن نے بھی اسے وفاقی ڈھانچے کی جیت قرار دیا۔ ششی تھرور نے واضح کیا کہ وہ خواتین کے ریزرویشن کے حامی ہیں لیکن اسے حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) سے جوڑنا ناقابلِ قبول ہے۔
ایوان میں ہنگامہ خیز دن کا اختتام
مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال کے ذریعہ پیش کردہ اس بل پر اپوزیشن نے پہلے ہی سازش کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ کانگریس اور دیگر جماعتوں کا موقف تھا کہ حکومت خواتین ریزرویشن کا لبادہ اوڑھ کر دراصل حلقہ بندیوں میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بل گرنے کے بعد دیگر متعلقہ بلوں کو آگے نہ بڑھانے کا اعلان کیا۔ اس واقعے نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اسے آنے والے انتخابات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
