انقترہ، 18 اپریل (یو این آئی) ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ایران پر غیرقانونی حملوں نے خطے میں سلامتی کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ترک محکمہ اطلاعات کے مطابق بروز جمعہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران، ایردوان نے کہا کہ ترکیہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری اور تیز کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں جاری تنازعہ نے ایک نئے اور مضبوط بنیاد پر قائم علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے کی ضرورت واضح کر دی ہے اور مزید کہا کہ ترکیہ اس مسئلے پر خطے کے ممالک کے ساتھ جامع طور پر بات چیت جاری رکھے گا۔ تینوں رہنماؤں نے پورے خطے میں پائیدار اور دیرپا امن حصول کے لیے ممکنہ مشترکہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔صدر ایردوان اور شہباز شریف نے دوطرفہ تعلقات اور ایران سے متعلق جاری جنگ بندی مذاکرات پر بات چیت کی اور بڑھتی ہوئی سفارتی ہم آہنگی کو اجاگر کیا۔ ایردوان نے کہا کہ ترکیہ توانائی، تجارت اور دفاع سمیت اہم شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دیتا رہے گا۔ انہوں نے جنگ بندی کو یقینی بنانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ دونوں فریقین وسیع تر امن معاہدے کی جانب اسے بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔ایردوان نے زور دیا کہ غزہ کی جنگ بندی کو مضبوط بنانا ضروری ہے، انہوں نے نئے علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ عدم استحکام کے ماحول میں فلسطین کے دو ریاستی حل کی کوششیں جاری رکھی جانی چاہییں۔ صدر نے فورم کے دوران شامی ہم منصب احمد الشرع سے بھی ملاقات کی، جو جاری علاقائی تبدیلیوں کے درمیان ایک قابلِ ذکر ملاقات تھی۔ شام کی تعریف کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ دمشق اپنی وحدیت اور اتحاد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیر نو اور ترقی کے لیے پختہ اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس عمل کے دوران ترکیہ شام کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایردوان نے مطالبہ کیا کہ شام خطے کے تنازعات سے دور رہے اور کہا کہ انقرہ اور دمشق کے درمیان دفاع، سیکیورٹی، تجارت، توانائی اور نقل و حمل سمیت تمام شعبوں میں تعاون میں اضافہ شام کی بحالی کی کوششوں کے لیے اہم ہوگا۔ ایردوان نے شمال مشرقی شام میں ضم کے عمل کو بغیر خلل کے مکمل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس طرح کا نتیجہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ ملاقات میں اعلی سطحی ترک حکام نے شرکت کی جن میں وزیرِ خارجہ حاقان فیدان اور خفیہ سروس کے سربراہ ابراہیم قالن بھی شامل تھے۔
ایران پر غیر قانونی حملوں سے علاقائی سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا:ایردوان
مقالات ذات صلة
