ہومNational’یونیفارم سول کوڈ کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ایک آئینی مقصد...

’یونیفارم سول کوڈ کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ایک آئینی مقصد ہے‘

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

سپریم کورٹ کا مسلم پرسنل لاءمیں وراثت کے قوانین کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مرکز کو نوٹس، وراثت میں برابری پر بحث

نئی دہلی، 17 اپریل:۔ (ایجنسی) سپریم کورٹ نے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق ایک اہم سماعت کے دوران واضح کیا ہے کہ یہ کسی خاص مذہب سے متعلق نہیں بلکہ ایک آئینی مقصد ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جس میں جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچول بھی شامل تھے، نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب عدالت مسلم پرسنل لا (شریعت) اپلیکیشن ایکٹ 1937 کی بعض دفعات کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔

یہ عرضی پولومی پاوِنی شکلا اور نیا ناری فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شریعت کے تحت وراثت کے قوانین خواتین کے خلاف امتیازی ہیں۔ عدالت نے اس معاملے پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے وزارت اقلیتی امور کو نوٹس جاری کیا۔ سماعت کے دوران معروف وکیل پرشانت بھوشن نے مؤقف پیش کیا کہ شریعت کے تحت خواتین کو وراثت میں مردوں کے مقابلے میں کم حصہ دینا بظاہر امتیازی ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 14 (برابری کا حق) کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے دلیل دی کہ یہ کوئی لازمی مذہبی عمل نہیں ہے، اس لیے اسے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تحفظ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عدالت ان دفعات کو کالعدم قرار دیتی ہے تو اس کی جگہ انڈین سسیشن ایکٹ جیسے غیر امتیازی قانون کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، جو مرد و خواتین کے درمیان برابری کی بنیاد پر وراثت تقسیم کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ یونیفارم سیول کوڈ ایک آئینی تصور ہے اور اس کا مقصد ملک میں یکساں سیول قوانین کا نفاذ ہے، نہ کہ کسی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانا۔
جسٹس باگچی نے کہا کہ اسپیشل میریج ایکٹ پہلے ہی ایک ایسا قانونی راستہ فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے افراد اپنے ذاتی مذہبی قوانین سے ہٹ کر یکساں سول قوانین کے تحت شادی اور دیگر معاملات طے کر سکتے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شریعت کے تحت موجودہ وراثتی اصول خواتین کو مردوں کے مقابلے میں نصف یا اس سے بھی کم حصہ دیتے ہیں، جو واضح طور پر امتیازی سلوک ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مرکزی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.