قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ٹھوس قانون وقت کی ضرورت، مرکزی حکومت کو بھیجا جائے گا ڈرافٹ:سرائے رائے
جدید بھارت نیوز سروس
جمشیدپور،10؍مئی: جمشید پور میں 22 اور 23 مئی کو پہاڑوں اور ندیوں کے تحفظ پر مرکوز قومی سطح کی دو روزہ کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ یہ تقریب شہر کے موتی لال نہرو پبلک اسکول میں ہوگی، جہاں ملک بھر سے ماہرین ماحولیات، آبی ماہرین اور سماجی کارکن ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے۔ اس کانفرنس کا انعقاد ‘ترون بھارت سنگھ‘اور ‘یگانتر بھارتی‘کی قیادت میں کیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ آئی آئی ٹی (آئی ایس ایم) دھنباد، جل برادری، نیچر فاؤنڈیشن، سورن ریکھا علاقائی ترقیاتی ٹرسٹ اور مشن وائی جیسے ادارے بھی شراکت دار ہیں۔ پروگرام 22 مئی کو صبح 9 بجے شروع ہو کر شام 6 بجے تک چلے گا، جبکہ 23 مئی کو صبح 9 بجے سے دوپہر 30:2بجے تک سیشن منعقد ہوں گے۔
انعقاد کے لیے 14 شعبے تشکیل
کانفرنس کے بہتر انتظام کے لیے آرگنائزنگ کمیٹی نے 14 مختلف شعبے تشکیل دیے ہیں۔ ان میں پروگرام، رجسٹریشن، رہائش، کھانا، ٹریفک، سجاوٹ، دعوت نامہ، تشہیر، میڈیا کوآرڈینیشن، مہمان نوازی، پینے کا پانی اور صفائی، دفتر، ثقافتی اور فوٹو گرافی و ویڈیو گرافی کے شعبے شامل ہیں۔ کمیٹی کے سرپرست کے طور پر ایم ایل اے سریو رائے اور راجندر سنگھ (جل پرش) کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ وہیں کنوینر ماہر ماحولیات دنیش مشرا، شریک کنوینر انشل شرن اور صدر منوج کمار سنگھ بنائے گئے ہیں۔ کمیٹی میں مختلف شعبوں کے کئی ماہرین اور سماجی کارکن شامل ہیں۔
قانون کی ضرورت پر زور
ایم ایل اے سریو رائے نے کہا کہ ملک میں اب تک نہ تو پہاڑوں اور نہ ہی ندی ؤں کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس قانون بن سکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ جنگلات اور آبپاشی کے موجودہ قوانین ان قدرتی وسائل کے جامع تحفظ کے لیے کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں ملک بھر کے ماہرین اپنی تجاویز دیں گے اور ایک ڈرافٹ تیار کیا جائے گا، جسے مرکزی حکومت کے سامنے رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹھوس قانون بنتا ہے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے تحفظ کی بڑی ڈھال ثابت ہوگا۔ سریو رائے نے سورن ریکھا ندی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ندی کے پانی میں آکسیجن کی کمی سے آبی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
پہاڑ ہیں، لیکن دکھتے نہیں
ماہر ماحولیات دنیش مشرا نے کہا کہ ترقی اور کانکنی کے دباؤ میں پہاڑوں کا وجود آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقائق کی بنیاد پر ایک مضبوط دستاویز تیار کر کے حکومت تک پہنچائی جائے گی، جو ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہوگی۔ اس دو روزہ کانفرنس کا بنیادی مقصد پہاڑوں اور ندی ؤں کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر ٹھوس پالیسی اور قانون کی سمت میں پہل کرنا ہے۔ ماہرین کی رائے اور تجربات کی بنیاد پر ایک ایسا خاکہ تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی جو پالیسی سازی میں کارآمد ثابت ہو سکے۔
