ہومJharkhandاَن میپڈ ووٹرز کی میپنگ میں آئی تیزی، 1 ہفتے میں 5...

اَن میپڈ ووٹرز کی میپنگ میں آئی تیزی، 1 ہفتے میں 5 لاکھ سے زیادہ ووٹرز ہوئے میپڈ

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

ووٹر لسٹ نظرثانی پر جے ایم ایم کو اعتراض، اَن میپڈ ووٹرز کو لے کر سی ای او سے مانگا جواب

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 30 مئی:۔ جھارکھنڈ میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی (SIR) سے قبل چل رہی ووٹر میپنگ کے عمل میں زبردست تیزی آئی ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے روی کمار نے بتایا کہ 23 مئی کو ان میپڈ ووٹرز کی فہرست تمام پولنگ اسٹیشنوں اور محکمہ کی ویب سائٹ پر عام کیے جانے کے بعد سے اس مہم کو مزید رفتار ملی ہے۔ اب تک ریاست میں مجموعی طور پر 75.19 فیصد ووٹرز کی میپنگ مکمل ہو چکی ہے، جس کے بعد میپڈ ووٹرز کی کل تعداد 1,99,15,463 تک پہنچ گئی ہے۔ فہرست کی اشاعت کے محض ایک ہفتے کے اندر ریکارڈ 5,14,546 ووٹرز کی میپنگ کامیابی سے کی گئی ہے۔ یہ کام بی ایل او (BLO) کے ذریعے 15 جون تک جاری رہے گا۔ میپنگ مہم کو مزید موثر بنانے اور سست رفتار والے علاقوں کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو تمام اضلاع کے الیکشن افسران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ بھی طلب کی گئی ہے۔
جے ایم ایم کا اعتراض اور بہار کی طرز پر نام ہٹائے جانے کا خدشہ
دوسری طرف، ریاست میں مجوزہ خصوصی گہن نظرثانی (SIR) 2025-26 کو لے کر جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جے ایم ایم کے جنرل سکریٹری ونود کمار پانڈے نے چیف الیکٹورل آفیسر کو ایک باضابطہ مکتوب ارسال کرتے ہوئے ووٹر لسٹ کی شفافیت اور بی ایل او کی کارکردگی پر 7 اہم نکات کے تحت وضاحت طلب کی ہے۔ جے ایم ایم نے خط میں یہ سنگین خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بہار میں SIR 2023 کے دوران محض ‘ان میپڈ ‘ زمرے میں ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے تھے، اور جھارکھنڈ میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس سے جائز ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
ایس او پی کا مطالبہ
پارٹی نے الیکشن کمیشن سے پرزور مانگ کی ہے کہ کسی بھی ووٹر کو حتمی طور پر “ان میپڈ” قرار دینے سے پہلے بی ایل او کے ذریعے کم از کم دو الگ الگ دنوں اور مختلف اوقات میں ان کی رہائش گاہ کی جسمانی تصدیق (فزیکل ویریفکیشن) کی جائے۔ جے ایم ایم نے اس پورے عمل کے لیے ایک واضح اور تحریری اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سنتھال پرگنہ، کولہان اور جنوبی چھوٹا ناگپور جیسے قبائلی اکثریتی علاقوں کی جغرافیائی اور لسانی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ درج فہرست علاقوں میں مقامی زبانوں، بالخصوص سنتھالی اور منڈاری کا علم رکھنے والے بی ایل او کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ووٹرز کے ساتھ درست طریقے سے رابطہ قائم کیا جا سکے۔
شفافیت کے لیے سیاسی جماعتوں کو فہرستیں دینے کی مانگ
انتخابی عمل میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے جے ایم ایم نے کہا ہے کہ تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو ابتدائی ووٹر لسٹ کی اشاعت سے پہلے ہی ان میپڈ ووٹرز اور حذف کیے جانے والے مجوزہ ناموں کی فہرست فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ، فارم-6 کے ذریعے شامل کیے گئے نئے ووٹرز کی ایک الگ فہرست بھی سیاسی جماعتوں کو دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنی سطح پر بھی اس کی تصدیق کر سکیں۔ جے ایم ایم نے چیف الیکٹورل آفیسر سے مکتوب میں اٹھائے گئے تمام 7 سوالات کا 15 ورکنگ ڈیز (کام کے دنوں) کے اندر تحریری جواب دینے کی گزارش کی ہے، تاکہ ووٹر لسٹ کی تجدید کے اس پورے عمل میں عوام کا اعتماد اور شفافیت برقرار رہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.