جدید بھارت نیوز سروس
جمشیدپور،30؍مئی: جھارکھنڈ مول واسی ادھیکار منچ کے وفد نے مرکزی کنوینر ہرموہن مہتو کی قیادت میں مشرقی سنگھ بھوم کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سے ملاقات کر کے ٹاٹا لیز کی تجدید، بے گھر ہونے والوں (متاثرین) کے حقوق اور کھتیان سے جڑے مختلف مسائل کو اٹھایا۔ وفد نے ڈپٹی کمشنر کو میمورنڈم سونپ کر متاثرہ خاندانوں کے مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔ میمورنڈم کے ذریعے بتایا گیا کہ جمشید پور میں ٹاٹا کمپنی کے قیام کے دوران 18 مواضع (دیہات) کے ہزاروں آدیواسی اور مول واسی خاندان بے گھر ہوئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد میں خاندان آج بھی آباد کاری، ملازمت، متاثرہ سرٹیفکیٹ، زمین کی واپسی اور دیگر حقوق کے مطالبے کو لے کر جدوجہد کر رہے ہیں۔ منچ کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ متاثرین اور اصل مالکانِ اراضی (رعیتوں) سے جڑے معاملات میں سال 1996 کے سروے کھتیان کے بجائے 1908 اور 1937 کے کھتیان کو بنیاد مانا جائے۔
ضروری کارروائی کی یقین دہانی
وفد کا کہنا تھا کہ پرانے کھتیانوں میں اصل رعیتوں اور آدیواسی-مول واسی برادریوں کے حقوق واضح طور پر درج ہیں۔ مرکزی کنوینر ہرموہن مہتو نے کہا کہ ٹاٹا لیز کی تجدید جیسے اہم معاملات میں مقامی متاثرین اور مول واسیوں کے حقوق اور رضامندی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے انتظامیہ اور حکومت سے متاثرہ خاندانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس پہل کرنے کا مطالبہ کیا۔ وفد نے یہ مطالبہ بھی اٹھایا کہ کھتیان اور زمین کے سلسلے میں پہلے دی گئی درخواستوں کی موجودہ صورتحال کو عوامی سطح پر واضح کیا جائے اور زیر التوا معاملات کو نمٹانے کے لیے خصوصی پہل کی جائے۔ دوسری طرف ڈپٹی کمشنر نے وفد کی باتوں کو سنتے ہوئے متعلقہ معاملات کی جانچ کر کے ضروری کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ اس دوران منچ سے وابستہ کئی سماجی کارکن اور تحریک کار بھی موجود تھے۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596737