ڈپٹی کمشنر اور مائنز کمشنر کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو دی گئی چیلنج
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 26 مئی: جھارکھنڈ حکومت نے مائننگ لیز (کان کنی کے پٹے) کے ایک اہم معاملے میں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اور مائنز کمشنر کے احکامات کو منسوخ کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ اس معاملے میں بنیادی قانونی تنازعہ وقت سے پہلے مائننگ لیز کو منسوخ کرنے کے ڈپٹی کمشنر کے اختیارات اور حدود سے متعلق ہے، جس پر ہائی کورٹ نے حکومت کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔
دہلی کی کمپنیوں کو ملا تھا ٹینڈر
تفصیلات کے مطابق، چترا ضلع میں دہلی کی دو کمپنیوں ‘میسرز شپرا پاور اینڈ فیول پرائیویٹ لمیٹڈ ‘ اور ‘میسرز بدھا اسمرتی مائننگ انفراکون پرائیویٹ لمیٹڈ ‘ کو اسٹون مائننگ (پتھر کی کان کنی) کا لیز الاٹ کیا گیا تھا۔ ان دونوں کمپنیوں کو سال 2016 میں یہ لیز دی گئی تھی۔ تاہم، چترا کے ڈپٹی کمشنر نے فروری 2021 میں جھارکھنڈ مائنر منرلز رولز 2004 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دونوں کمپنیوں کا لیز منسوخ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد مذکورہ کمپنیوں نے ڈپٹی کمشنر کے حکم کے خلاف مائنز کمشنر کے پاس نظرثانی کی درخواست (ریویژن پٹیشن) دائر کی تھی۔ مائنز کمشنر نے سماعت کے بعد مارچ 2023 میں فیصلہ سناتے ہوئے ڈی سی کے حکم کو برقرار رکھا، جس کی اطلاع کمپنیوں کو جولائی 2023 میں دی گئی۔
ہائی کورٹ میں کمپنیوں کی دلیلیں
مائنز کمشنر سے ریلیف نہ ملنے کے بعد دونوں کمپنیوں نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کا رخ کیا اور رٹ پٹیشن دائر کی۔ چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے معاملے کی سماعت کے دوران کمپنیوں کی جانب سے یہ دلال پیش کی گئیں کہ ڈپٹی کمشنر کو وقت سے پہلے کسی بھی لیز کو منسوخ کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ وہ وقت سے پہلے لیز صرف اسی صورت میں منسوخ کر سکتے ہیں جب لیز کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ کمپنیوں کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے لیز کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی نہیں کی ہے، اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے غیر قانونی طور پر ان کا لیز منسوخ کیا۔ کمپنیوں نے موقف اپنایا کہ وقت سے پہلے لیز منسوخ کرنے کا اختیار صرف ریاستی حکومت کے پاس محفوظ ہے۔
سرکاری وکیل کا اعتراف اور ہائی کورٹ کا فیصلہ
عدالت میں سماعت کے دوران کمپنیوں کی جانب سے دی گئی اس قانونی دلیل پر سرکاری وکیل نے کوئی اعتراض یا قانونی اختلاف ظاہر نہیں کیا۔ سرکاری وکیل کی جانب سے کوئی ٹھوس دفاع نہ کیے جانے پر، ہائی کورٹ نے کمپنیوں کی قانونی دلیل کو تسلیم کر لیا۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور مائنز کمشنر کی جانب سے لیز منسوخی سے متعلق جاری کردہ احکامات کو یکسر خارج اور کالعدم قرار دے دیا۔ ہائی کورٹ کے اسی فیصلے سے ناراض ہو کر اب ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تاکہ نچلی عدالتوں کے اختیارات کو بحال کرایا جا سکے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596355