ہومJharkhandجے پی ایس سی کا اے پی پی پی ٹی رزلٹ تنازعہ...

جے پی ایس سی کا اے پی پی پی ٹی رزلٹ تنازعہ کی زد میں

ارکان کی مخالفت کے باوجود رزلٹ جاری، کمپیوٹر سرٹیفکیٹ کی اہلیت پر اٹھ رہے سوال

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 21 جون :۔جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) ایک بار پھر تنازعات میں گھر گیا ہے۔ اسسٹنٹ پبلک پروسیکیوٹر (اے پی پی) کے 134 باقاعدہ عہدوں کے لیے 20 دسمبر 2025 کو منعقدہ پریلیمنری ٹیسٹ (پی ٹی) کا رزلٹ 19 جون کو جاری کیا گیا، جس میں 2515 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، رزلٹ کے اعلان سے قبل ہی کمیشن کے تین میں سے دو ارکان نے اس پر تحریری اعتراض درج کراتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اعتراض کی وجہ:ارکان کا موقف ہے کہ رزلٹ اشتہار میں طے شدہ دفعات کے مطابق نہیں بنایا گیا ہے۔ اشتہار (نمبر 06/2025) میں قانون کی ڈگری کے ساتھ کمپیوٹر سرٹیفکیٹ کو اضافی اہلیت قرار دیا گیا تھا اور صرف ریاستی حکومت سے تسلیم شدہ اداروں کے سرٹیفکیٹ کو ہی ماننے کی شرط تھی۔ تاہم، کامیاب ہونے والے 902 غیر محفوظ زمرے کے امیدواروں میں سے تقریباً 830 جھارکھنڈ کے باہر کے ہیں، جنہوں نے ریاست سے باہر کے اداروں کے کمپیوٹر سرٹیفکیٹ جمع کیے تھے۔یہ امتحان درخواستوں کے تقریباً ایک سال بعد منعقد ہوا تھا اور رزلٹ جاری ہونے میں چھ ماہ کا وقت لگا۔ کمیشن کے قواعد کے مطابق رزلٹ جاری کرنے سے قبل ارکان کی منظوری ضروری ہوتی ہے، لیکن یہاں ارکان کی مخالفت کے باوجود رزلٹ جاری کیا گیا۔ اس سے پوری انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
امیدواروں کا مطالبہ
امیدواروں کا ایک بڑا طبقہ اب مطالبہ کر رہا ہے کہ مین امتحان سے قبل کمیشن کمپیوٹر سرٹیفکیٹ کی منظوری اور رزلٹ کے تعین سے جڑے تمام نکات پر اپنا موقف واضح کرے تاکہ یہ بھرتی عمل قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکے۔ جے پی ایس سی کی تاریخ پہلے سے ہی متنازع رہی ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اہلیت کی شرائط پر یکساں عمل درآمد ہونا ضروری ہے۔ فی الحال کمیشن کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات