ہومJharkhandجھارکھنڈ راجیہ سبھا انتخاب: جے ایم ایم کا دونوں نشستوں پر الیکشن...

جھارکھنڈ راجیہ سبھا انتخاب: جے ایم ایم کا دونوں نشستوں پر الیکشن لڑنے کا اشارہ، کانگریس بے چین

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

کانگریس کے یکطرفہ فیصلے سے ناراضگی، ہیمنت سورین جلد ہی دہلی میں مرکزی قیادت سے کریں گے ملاقات

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 5 جون:۔ جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا کی دو خالی نشستوں کے لیے سیاسی ہلچل انتہائی شدید ہو گئی ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے دونوں سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم ترین فیصلہ جمعہ کو کانکے روڈ واقع وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی صدارت میں منعقدہ پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لیا گیا۔ میٹنگ میں پارٹی کے تمام وزراء، اراکین اسمبلی اور سینئر لیڈران نے یکزباں ہو کر یہ رائے دی کہ جے ایم ایم کو دونوں ہی سیٹوں پر الیکشن لڑنا چاہیے اور اس سلسلے میں حتمی فیصلہ لینے کا پورا اختیار وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو سونپ دیا گیا ہے۔
کانگریس کے رویے سے جے ایم ایم سخت ناراض
جے ایم ایم کا یہ جارحانہ فیصلہ کانگریس کی جانب سے جمعرات کی شام اپنے قومی سکریٹری پرنب جھا کو اچانک امیدوار بنائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے اس یکطرفہ فیصلے پر جے ایم ایم کے اندر شدید ناراضگی ہے۔ جے ایم ایم کے مرکزی جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ نے صاف الفاظ میں کہا کہ کانگریس نے پارٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ جے ایم ایم رہنماؤں کا ماننا ہے کہ کانگریس نے بغیر کسی باہمی تبادلہ خیال کے امیدوار کا اعلان کر دیا، جو کہ اتحاد کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور سی پی آئی (ایم ایل) جیسے دیگر اتحادیوں کو بھی اس فیصلے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
سینئررہنماؤں کی میٹنگ اور دہلی کا دورہ
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں کابینہ وزیر حفیظ الحسن، سدیویہ کمار سونو، یوگیندر پرساد، اسٹیفن مرانڈی، نلن سورین، بسنت سورین اور متھرا پرساد مہتو سمیت کئی سرکردہ رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد وزیر حفیظ الحسن اور یوگیندر پرساد نے واضح اشارے دیے کہ پارٹی کارکنان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے دونوں سیٹوں پر دعویٰ پیش کیا گیا ہے۔ جے ایم ایم رہنماؤں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بہار اسمبلی انتخابات میں جے ایم ایم کو ایک بھی سیٹ نہ ملنے کا غصہ بھی ظاہر کیا۔ ذرائع کے مطابق، کانگریس کی مرکزی قیادت سے اس ڈیڈ لاک کو سلجھانے اور انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین جلد ہی دہلی کا دورہ کر سکتے ہیں۔
راجیہ سبھا سیٹوں کا پورا انتخابی ریاضی
جھارکھنڈ کی 81 رکنی اسمبلی میں راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے کے لیے کسی بھی امیدوار کو پہلی ترجیح کے کم از کم 28 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ وقت میں حکمراں اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 56 اراکین اسمبلی کی طاقت ہے، جس میں جے ایم ایم کے 34، کانگریس کے 16، آر جے ڈی کے 4 اور سی پی آئی (ایم ایل) کے 2 ایم ایل ایز شامل ہیں۔ اس عددی طاقت کے لحاظ سے مہا گٹھ بندھن دونوں سیٹیں آسانی سے جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ واضح رہے کہ ان دو سیٹوں میں سے ایک سیٹ جے ایم ایم کے بانی شوبو سورین کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی ہے، جبکہ دوسری سیٹ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دیپک پرکاش کی مدت کار 21 جون کو ختم ہونے کی وجہ سے خالی ہو رہی ہے۔ اس کے لیے 18 جون کو پولنگ تجویز کی گئی ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.