بوسٹن، 9 جون (یو این آئی) امریکہ کی وفاقی عدالت نے ایچ-1بی ویزا درخواست پر ایک لاکھ ڈالر فیس کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جو امریکی صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور دھچکا ہے۔روئٹرز کے مطابق ایک وفاقی جج نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئے ایچ-1بی ویزوں پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی فیس کو کالعدم قرار دے دیا۔ جج نے کہا کہ یہ دراصل ایک غیر قانونی ٹیکس ہے جس کی منظوری کانگریس نے کبھی نہیں دی۔ بوسٹن میں امریکی ضلعی جج لیو سوروکِن نے یہ فیصلہ 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر مقدمے میں سنایا۔ اس مقدمے میں اس فیس کو چیلنج کیا گیا تھا جس کا اعلان ٹرمپ نے ستمبر میں کیا تھا اور جس نےایچ-1بی ویزا حاصل کرنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی کمپنیاں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے اس پروگرام پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ فیس ایک قانونی مالی جرمانہ ہے، جسے نافذ کرنے کا اختیار صدر کو وفاقی امیگریشن قانون کے تحت حاصل ہے۔ یہ قانون صدر کو اس صورت میں بعض غیر ملکی شہریوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا اختیار دیتا ہے جب وہ اسے امریکہ کے مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھیں۔ تاہم جج سوروکِن نے قرار دیا کہ یہ فیس جرمانہ نہیں بلکہ ایک ٹیکس ہے اور ریپبلکن صدر کو کانگریس کی جانب سے ایسا ٹیکس نافذ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی شہریت و امیگریشن سروسز بھی اس فیس کو نافذ نہیں کر سکتیں۔ جج سوروکن، جنھیں سابق ڈیموکریٹک صدر بارک اوباما نے مقرر کیا تھا، نے اپنے فیصلے میں لکھا ’’یہاں 100,000 ڈالر کی ادائیگی کی نوعیت اور اس کے اطلاق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ہے، چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔‘‘ جج نے فروری میں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس میں ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد کردہ ٹیرف کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت نافذ کیے گئے تھے جو قومی ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔جج کے مطابق سپریم کورٹ کے اسی قانونی اصول کے تحت ٹرمپ کو امیگریشن قانون کے تحت بھی کوئی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر راجرز نے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو یقین ہے کہ اپیل میں جج سوروکن کا فیصلہ تبدیل کر دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا ’’صدر ٹرمپ کے پاس یہ واضح قانونی اختیار موجود ہے کہ وہ ایسے کسی بھی طبقے کے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگائیں جنھیں وہ امریکہ کے بہترین مفاد کے خلاف سمجھتے ہوں اور انھوں نے بالکل یہی کیا ہے۔‘‘واضح رہے کہ ایچ-1بی پروگرام کے تحت ہر سال 65,000 ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جب کہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے کارکنوں کے لیے مزید 20,000 ویزے مختص ہوتے ہیں۔ یہ ویزے عموماً تین سے چھ سال کی مدت کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔ ٹرمپ کے اعلان سے پہلے کسی غیر ملکی کارکن کے لیے ایچ-1بی ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے آجر مختلف عوامل کے مطابق تقریباً 2,000 سے 5,000 ڈالر تک فیس ادا کرتے تھے۔ٹرمپ نے یہ بھاری نئی فیس نافذ کرتے ہوئے ایک صدارتی اعلامیے میں کہا تھا کہ ایچ-1بی پروگرام کو ’’جان بوجھ کر اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت اور کم مہارت رکھنے والے مزدوروں کو لایا جائے، نہ کہ امریکی کارکنوں کی کمی پوری کی جائے۔‘‘ یہ فیس ان غیر ملکی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتی جو پہلے ہی امریکہ میں طالب علم ویزے پر موجود ہوں اور بعد میں ایچ-1بی ویزا حاصل کریں۔
ایسے افراد عموماً نئے ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والوں کا ایک بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ فیس کے نفاذ کے بعد بہت کم آجروں نے یہ رقم ادا کی ہے۔ 15 فروری تک امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) کو صرف 85 ایسی ادائیگیاں موصول ہوئی تھیں، جیسا کہ ادارے کے ایک اہلکار نے مارچ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں بتایا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال مزید سخت کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں اور ایک نیا ویزا انتخابی نظام تجویز کیا ہے جس میں زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔ ایک لاکھ ڈالر کی اس فیس کے خلاف کم از کم تین مختلف مقدمات دائر کیے گئے تھے، جن میں امریکی چیمبر آف کامرس کا مقدمہ بھی شامل ہے۔
ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر ایچ-1بی ویزا فیس غیر قانونی: امریکی جج کا فیصلہ
مقالات ذات صلة
