8 کروڑ 24 لاکھ روپے کے فنڈز مختص، شراونی میلہ کے لیے تیاریاں تیز
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 26 جون 2026:بہار حکومت کے محکمہ محصولات و اراضی اصلاحات نے ریاست کی ثقافتی و مذہبی روایات کو برقرار رکھنے اور زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کے تحت ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ نے رواں سال ریاست کے مختلف اضلاع میں منعقد ہونے والے چار انتہائی اہم اور تاریخی میلوں کے انتظامات اور ان کے کامیاب انعقاد کے لیے اب تک مجموعی طور پر 8 کروڑ 24 لاکھ روپے کی بھاری رقم مختص کی ہے۔ محکمہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق، ریاست میں ہر سال منعقد ہونے والے ان روایتی اور بڑے میلوں کے انتظامات کو عالمی معیار کے مطابق بنانے، امن و امان برقرار رکھنے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے خصوصی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔محکمہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس سال اب تک چار بڑے اور ہائی پروفائل میلوں کے لیے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان میں عقیدت مندوں کے لیے خصوصی اہمیت کے حامل عالمی شہرت یافتہ ‘شراونی میلہ’ کی وسیع تر تیاریوں اور انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے 2 کروڑ 75 لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
متعلقہ حکام نے بتایا کہ اس رقم کی اضلاع کو منتقلی اور اجرائی کا عمل اس وقت اپنے آخری اور حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ محکمہ نے واضح کیا کہ یہ تمام فنڈز براہِ راست ان اضلاع کی انتظامیہ کو فراہم کیے جا رہے ہیں جہاں ان میلوں کا انعقاد ہونا ہے، تاکہ تمام انتظامی، حفاظتی اور فلاحی انتظامات بروقت، شفاف اور بہتر انداز میں مکمل کیے جا سکیں اور زائرین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔محکمہ محصولات و اراضی اصلاحات کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک جن چار اہم میلوں کے لیے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے، ان میں سب سے زیادہ رقم ‘راجگیر ملمَاس میلہ ‘ کے لیے مختص کی گئی ہے، جس کے شاندار انتظامات کے لیے 4 کروڑ 85 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، دربھنگہ ضلع میں منعقد ہونے والے تاریخی و روایتی ‘ویر لورک میلہ ‘ اور ریاست کے مختلف حصوں میں عقیدت کے ساتھ منائے جانے والے ‘رام نومی میلہ ‘ کے لیے بھی علیحدہ طور پر معقول مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔ محکمہ نے یقین دلایا ہے کہ فنڈز کی دستیابی سے میلوں کے دوران صفائی ستھرائی، پینے کے صاف پانی، عارضی پناہ گاہوں اور طبی سہولیات کے معیار کو مزید مستحکم کیا جائے گا، اور وہ ان تمام سرگرمیوں کی خود نگرانی کر رہا ہے۔
