یہ صرف امن و امان نہیں بلکہ قومی اور معاشی سلامتی کا معاملہ ہے: سنجے سیٹھ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ،12؍جنوری: سائبر فراڈ سے بچاؤ اور بیداری کے حوالے سے وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے ایک نئی پہل کی ہے۔ اس پہل کے تحت سنجےسیٹھ نے بی ایس این ایل اور سائبر پیس کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے۔ اس کا مقصد رانچی شہر کے تاجروں اور عام شہریوں کو سائبر فراڈ جیسے معاملات سے بچانا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر مملکت برائے دفاع کے مرکزی دفتر رانچی میں آج ایک ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں جناب سنجے سیٹھ نے کہا کہ رانچی میں سائبر فراڈ ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ عام شہریوں کے ساتھ اب تاجر طبقہ بھی تیزی سے اس کا شکار ہو رہا ہے۔ سائبر فراڈ سے بیداری اور بچاؤ کے لیے میں نے ایک پہل کی ہے۔ حکومت ہند کا ادارہ بی ایس این ایل اور سائبر فراڈ سے بیداری کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘سائبر پیس فاؤنڈیشن ‘اب مل کر کام کریں گے۔ میری اس پہل کے ذریعے تاجروں اور عام شہریوں کو سائبر فراڈ سے بچایا جا سکے گا۔اس موقع پر موجود بی ایس این ایل حکام، سائبر پیس کے نمائندوں اور دانشوروں کو سائبر فراڈ سے بچاؤ کی معلومات فراہم کی گئیں، جس میں بتایا گیا کہ سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ عوامی بیداری اور سماجی شرکت سب سے موثر ہتھیار ہیں۔ ملک بھر میں ‘سائبر دوت‘ (سائبر سفیر) تیار کرنے کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سائبر بیداری کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ نوجوانوں، تاجروں اور ایم ایس ایم ای (MSME) کو سائبر جرائم کی نئی تکنیکوں اور دھوکہ دہی کے طریقوں سے واقف کرانے کے لیے بی ایس این ایل اور سائبر پیس فاؤنڈیشن مستعد ہیں۔ سائبر سیکیورٹی صرف امن و امان کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ قومی سلامتی اور معاشی تحفظ سے جڑا موضوع بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل لین دین اور آن لائن خدمات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ‘سائبر سوچھتا‘ (سائبر صفائی) کو روزمرہ کی عادت بنانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر بی ایس این ایل کے سی جی ایم جناب وپل اگروال، پی جی ایم امیش شاہ، سائبر پیس کے بانی ونیت کمار سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔



