نئے سپریم لیڈر کا انتخاب 88 ارکان پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری کرتی ہے؛ ایرانی میڈیا
تہران 01 مارچ2026ء(ایجنسی) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں نئے رہبرِ اعلی کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے، ایران کے آئین کے تحت نئے سپریم لیڈر کا انتخاب 88 ارکان پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری کرتی ہے جو سینئرعلما پر مشتمل ایک منتخب ادارہ ہے، 1979 میں اسلامی انقلاب کے قیام کے بعد یہ عمل صرف ایک بار انجام دیا گیا تھا، جب بانی انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کیا گیا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت ممکنہ طور پر جلد از جلد نئے سپریم لیڈر کا اعلان کرکے نظام میں استحکام کا پیغام دینا چاہے گی، تاہم موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کی ممکنہ مزید کارروائیوں کے تناظر میں مجلسِ خبرگان کا اجلاس بلانا بھی ایک چیلنج ہو سکتا ہے، آئین کے تحت نئے رہبر کا مرد، شیعہ عالمِ دین، سیاسی بصیرت اور اخلاقی اتھارٹی کا حامل ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ سے مکمل وفاداری بھی لازمی شرط ہے۔ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہئے کہ جو ممکنہ امیدواروں میں شامل شخصیات کے نام زیرِ گردش ہیں، ان میں مجتبی خامنہ ای، سپریم لیڈر کے دوسرے صاحبزادے ہیں اور پسِ پردہ اثر و رسوخ کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، ان کے اسلامی انقلابی گارڈ کوراور بسیج ملیشیا سے قریبی روابط بتائے جاتے ہیں، تاہم ایران میں موروثی جانشینی کے تصور کو ناپسند کیا جاتا ہے، خصوصاً اس نظام میں جو بادشاہت کے خاتمے کے بعد قائم ہوا۔مزید یہ کہ مجتبی خامنہ ای اعلی درجے کے نمایاں سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے، علی رضا اعرافی مجلسِ خبرگان کے نائب چیئرمین ہیں اور گارڈین کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں، جو انتخابی امیدواروں اور پارلیمنٹ کے قوانین کی جانچ کرتی ہے، وہ ایران کے دینی مدارس کے سربراہ بھی ہیں، انہیں انتظامی صلاحیتوں کا حامل اور خامنہ ای کے معتمدین میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں ان کا اثر محدود سمجھا جاتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ محمد مہدی میرباقری سخت گیر مقف رکھنے والے عالم دین اور مجلسِ خبرگان کے رکن ہیں، انہیں مذہبی و نظریاتی حلقوں میں قدامت پسند دھڑے کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، وہ مغرب مخالف خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں اور قم میں قائم اسلامی سائنسز اکیڈمی کے سربراہ ہیں، حسن خمینی بانی انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں انقلابی اور مذہبی نسبت حاصل ہے، وہ مزارِ خمینی کے متولی ہیں، تاہم انہوں نے کوئی بڑی سرکاری ذمہ داری نہیں سنبھالی، انہیں نسبتا معتدل خیالات کا حامل سمجھا جاتا ہے اور 2016ء میں انہیں مجلسِ خبرگان کے انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہاشم حسینی بوشہری مجلسِ خبرگان کے پہلے نائب چیئرمین ہیں اور جانشینی کے عمل سے جڑے اداروں میں اہم کردار رکھتے ہیں، وہ خامنہ ای کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، تاہم عوامی سطح پر ان کا پروفائل کم نمایاں ہے اور ان کے پاسدارانِ انقلاب سے مضبوط روابط کی اطلاعات نہیں ملتیں۔



