حملے میں زخمی حسینہ واجد کے خلاف طلبا تحریک کے رہنما عثمان ہادی کا انتقال
ڈھاکہ، 19 دسمبر (یو این آئی) انقلاب منچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی، جو گزشتہ جمعے کو ڈھاکہ میں مسلح افراد کے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے سنگاپور کے جنرل اسپتال میں دوران علاج انتقال کرگئے۔انقلاب منچا نے جمعرات کو فیس بک پوسٹ میں ان کی موت کی تصدیق کی۔ یہ خبر عثمان ہادی کے تصدیق شدہ فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے بھی شیئر کی گئی۔شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف طلبا تحریک کے اہم رہنما شریف عثمان ہادی گزشتہ دنوں قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے ان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی تھی۔ڈھاکہ یونیورسٹی یونٹ آف انقلاب منچا کے کنوینر سعید حسن نے میڈیا کو بتایا کہ عثمان ہادی کا انتقال بنگلہ دیش کے وقت کے مطابق رات 9 بج کر 45 منٹ پر ہوا۔نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ہیلتھ سیل کے سربراہ اور ہادی کے معالج ڈاکٹر احد نے ایک ویڈیو پیغام میں اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں سنگاپور کے جنرل ہسپتال سے اطلاع ملی ہے کہ ہادی کا انتقال ہو گیا ہے۔”سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے شریف عثمان ہادی کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا۔ بالاکرشنن نے بدھ کی رات 9:40 بجے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کو فون کیا اور انہیں ہادی کی صحت کے بارے میں بریف کیا۔عثمان ہادی پر جمعے کو نقاب پوش افراد نے قریبی فاصلے سے فائرنگ کی تھی جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہیں طبی امداد کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا۔چیف ایڈوائزر نے عثمان ہادی کے لیے قومی سطح پر یومِ سوگ کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر محمد یونس نے انقلاب منچا کے ترجمان اور جولائی کی بغاوت کی سرکردہ شخصیت شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد ہفتہ کو ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔براہ راست نشریات کے دوران چیف ایڈوائزر نے ہادی کو ایک “نڈر نوجوان” اور “فسطائیت اور تسلط کے خلاف جدوجہد میں ایک لافانی سپاہی” قرار دیا۔ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہادی کا انتقال ملک کے سیاسی اور جمہوری منظر نامے کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔
بنگلہ دیش میں انقلابی منچ تحریک کے ایک سرکردہ رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد مشتعل ہجوم نے جمعرات کی دیر رات سے جمعہ کی صبح تک ڈھاکہ اور دیگر کئی شہروں میں زبردست ہنگامہ کیا اور ہندوستانی ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ہند مخالف نعرے لگائے۔بنگلہ دیش میں ’’جولائی بغاوت‘‘ کے نمایاں چہرے اور دائیں بازو کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کا جمعرات کی رات سنگاپور کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے بیجوئے نگر علاقے میں ایک انتخابی مہم کے دوران ہوئے حملے میں ان کے سر میں گولی لگی تھی۔ہادی کی موت کی خبر پھیلتے ہی ان کے حامی اور شدت پسند طلبا سڑکوں پر آگئے اور آگ زنی، توڑ پھوڑ اور مخصوص اہداف پر حملے شروع کر دیے۔مشتعل ہجوم نے کھلنا اور چٹاگانگ میں بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمشنرز پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ چٹاگانگ میں مظاہرین ہندوستانی ہائی کمیشن کی عمارت کی جانب بڑھے، ذاکر حسین روڈ پر پولیس بیریکیڈ توڑ دیے اور احاطے کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس دوران انہوں نے ’’ہندوستان کا بائیکاٹ کرو‘‘، ’’عوامی لیگ کے اڈوں کو جلا دو‘‘اور ’’ہادی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ڈھاکہ میں مظاہرین بلڈوزر کے ساتھ آئے اور دھان منڈی 32 میں واقع بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے تاریخی گھر کے باقی ماندہ حصے کو منہدم کر دیا۔ عوامی لیگ کے کئی رہنماؤں کے دفاتر اور گھروں پر بھی حملے کیے گئے یا ان میں آگ لگا دی گئی، جن میں چشمہ ہل میں سابق وزیرِ تعلیم محیب الحسن چودھری نوفیل کا گھر اور اُترا میں سابق ڈھاکہ-18 عوامی لیگ کے رکنِ پارلیمنٹ حبیب حسن کے بھائی کا گھر شامل ہے۔مظاہرین نے ڈھاکہ کے کاروان بازار علاقے میں اخبارات دی ڈیلی اسٹار اور پروتھوم آلو کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ سینکڑوں مظاہرین نے پروتھوم آلو کی عمارت کی کئی منزلوں میں توڑ پھوڑ کی، فرنیچر، دستاویزات اور آلات سڑکوں پر پھینک دیے اور پھر انہیں آگ کے حوالے کردیا۔دی ڈیلی اسٹار کے دفتر میں صورتحال اسنتہائی سنگین ہو گئی۔ وہاں کم از کم 20 صحافی اور عملے کے افراد گہرے دھوئیں کے درمیان چھت پر پھنس گئے تھے اور آگ تیزی سے عمارت میں پھیل رہی تھی۔ فائر بریگیڈ کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے فوج کو تعینات کرنا پڑا۔ تیجگاؤں اسٹیشن کی فائر یونٹ نے آخرکار رات تقریباً 1:40 بجے آگ پر قابو پا لیا۔اپنے حامیوں کے ساتھ وہاں پھنسے ہوئے نائب مدیر سبرت رائے نے کہا کہ ’’اندر بہت زیادہ دھواں ہے، چھت پر بھی سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔‘‘ایک اور رپورٹر عبداللہ ایم ڈی عباس نے سوشل میڈیا پر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے تمام ساتھی چھت پر ہیں، وہ سانس نہیں لے پا رہے۔ براہِ کرم ہمارے لیے دعا کریں۔‘‘ بعد میں فوجی جوانوں نے علاقے کو محفوظ بنانے اور بچاؤ مہم میں مدد کی۔افسران نے ان واقعات پر تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا نہیں۔ ان حملوں کے بعد بنگلہ دیش میں مجموعی سلامتی کی صورتحال، سفارتی مشنز، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اداروں کی حفاظت کے حوالے سے ملک اور بیرونِ ملک شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔



